Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
43 - 1245
 میں بھی اسی طرح کی مشکل راہیں آتی ہیں جن میں ان  مثالوں سے کہیں زیادہ حیران کُن مشکلات ہیں اور روئے زمین پر بہت کم لوگ ان مشکلات سے بچنے کا راستہ جانتے ہیں۔
	یہ اسباب وہ ہیں جن کے سبب دل پر اشیاء کی حقیقتیں واضح نہیں ہوتیں ورنہ ہردل فطری طور پر حقائق جاننے کی صلاحیت رکھتا ہے کیونکہ دل امر ربی ہے، اسی خصوصیت و فضیلت کے سبب یہ ہرایک سے ممتاز ہے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتا ہے: اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَۃَ عَلَی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الْجِبَالِ فَاَبَیۡنَ اَنۡ یَّحْمِلْنَہَا وَ اَشْفَقْنَ مِنْہَا وَ حَمَلَہَا الْاِنۡسَانُ ؕ (پ۲۲،الاحزاب:۷۲)   ترجمۂ کنز الایمان:بیشک ہم نے امانت پیش فرمائی آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں پر تو انہوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈر گئے اور آدمی نے اٹھالی۔
	اس آیت مبارکہ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انسان میں ایک خُصُوصِیَّت ہے جس کی وجہ سے انسان کو آسمانوں، زمین اور پہاڑوں پر فضیلت دی گئی ہے، اسی کے سبب انسان اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی پیش کردہ امانت اٹھانے کی طاقت رکھتا ہےاور اس  امانت سے مراد مَعرِفتِ الٰہی اور توحیدِ باری تعالیٰ ہے۔ ہرانسان کا دل فطرتاً اس امانت کو اٹھانے کی طاقت و صلاحیت رکھتا ہے لیکن ذکرکردہ یہ چند وجوہات اسے اٹھانے اور اس کی حقیقت تک پہنچنے میں رکاوٹ پیدا کردیتی ہیں۔ چنانچہ مصطفٰے جان رحمتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ارشاد پاک ہے:”کُلُّ مَوْلُوْدٍ یُّوْلَدُ عَلَی الْفِطْرَةِ وَاِنَّمَا اَبَوَاہُ یُھَوِّدَانِہٖ وَیُنَصِّرَانِہٖ وَ یُمَجِّسَانِہٖیعنی ہربچہ دین فطرت پر پیدا ہوتا ہے اس کے ماں باپ اسے یہودی، عیسائی اور مجوسی بنادیتے ہیں۔“(1)
	ایک مقام پرارشادفرمایا:”لَوْلَا اَنَّ الشَّیَاطِیْنَ یَحُوْمُوْنَ عَلٰی قُلُوْبِ بَنِیْ اٰدَمَ لَنَظَرُوْا اِلٰی مَلَکُوْتِ السَّمَآءِ یعنی بنی آدم کے دلوں کے گرد اگر شیاطین جمع نہ ہوتے تو انسان کی نظر ضرور آسمانی سلطنت تک پہنچ جاتی۔“(2)
	اس حدیث میں ان اسباب کی طرف اشارہ ہے جو دل اور آسمانی بادشاہی کے درمیان حجاب بنے ہوئے ہیں۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… بخاری ،کتاب الجنائز،باب اذااسلم الصبی فمات...الخ،۱/ ۴۵۷، حديث:۱۳۵۸
2…اللباب فی علوم الکتاب،سورة الفاتحه،۱/ ۱۱۱