جا تا ہے حتّٰی کہ چھوٹے جھوٹ کو چھوٹا جھوٹ لکھا جا تا ہے (1)۔(2)
جھوٹ سے اجتناب میں اَسلاف کی احتیاطیں:
پرہیز گار لوگ اس قسم کے جھوٹ میں بھی نرمی بر تنے سے بچتے تھے ۔چنانچہ،
طبیب سے کی ہوئی بات سچ کردکھائی:
حضرت سیِّدُنالَیْث بن سَعدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَحَد فرماتے ہیں: حضرت سیدنا سعید بن مُسَیَّبرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی آنکھوں میں میل کچیل جمع ہو جاتا حتّٰی کہ آنکھوں سے باہر پہنچ جاتا ۔آپ سے کہا جاتا:اگر آپ اپنی آنکھیں صاف کر لیں تواس میں کیا حرج ہے؟ارشاد فرماتے:پھرطبیب کی بات کا کیا ہوگا؟اس نے کہا تھا کہ اپنی آنکھوں کو مت چھونا اور میں نے کہا تھا کہ نہیں چھوؤں گا۔
تو یہ اَسلاف کی سوچ اور احتیاط تھی اور جو اس احتیاط کو چھوڑ دے گااس کی زبان جھوٹ میں پڑ کر اس کے اختیار کی حد سے نکل جائے گی اوروہ جھوٹ بول رہا ہو گا لیکن اسے شُعُور نہیں ہو گا۔
آپ کا کیا جاتا اگر آپ سچ بو لتیں:
منقول ہے کہ حضرت سیِّدُنا ربیع بن خَیْثم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَمکی بہن بھتیجے کی عیادت کے لئے آئیں تو اس کی طرف جھک کر پو چھنے لگیں: اے میرےبیٹے!تم کیسے ہو؟یہ سن کرحضرت سیِّدُنا ربیع بن خَیْثم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم اٹھ کر بیٹھ گئے اور ارشاد فرمایا:کیا آپ نے اسے دودھ پلایا ہے ؟انہوں نے کہا: نہیں۔ارشاد فرمایا: آپ کا کیا جاتا اگر آپ سچ بو لتیں اور کہتیں:اے میرے بھتیجے!تم کیسے ہو؟
عادت یہ ہے کہ جو بات معلوم نہ ہو تو اس کے متعلق(بطور توریہ) کہا جا تا ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّ جا نتا ہے، حضرت سیِّدُنا عیسٰیروحُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام فرماتے ہیں:اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ہاں یہ بڑے گناہوں میں سے ہے کہ انسان جس بات کو نہ جانتا ہو اس کے بارے میں (بطور توریہ)کہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ جانتا ہے۔بعض اوقات جھوٹا خواب بیان کیا جا تا ہے حالانکہ اس میں بہت بڑا گناہ ہے۔چنانچہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…درست یہ ہے کہ حدیث کی راویہ اسماء بنت یزید ہیں۔ (اتحاف السادة المتقين،۹/ ۲۸۳)
2…موسوعة الامام ابن ابی الدنیا،کتاب الصمت،۷/ ۲۹۷،حدیث:۵۲۴