دل کو خوش کرناچنانچہ رسولِ بے مثالصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کایہ فرمانا کہ ”جنَّت میں کوئی بڑھیا نہیں جائے گی“اور عورت سے یہ فرمانا کہ”تمہارے خاوند کی آنکھ میں سفیدی ہے“نیز ایک عورت سے یہ فرماناکہ”ہم تمہیں اونٹ کے بچے پر سوار کریں گے“(1)اوراس طرح کی دیگر مثالیں اس میں داخل ہیں۔
دَرَجَۂ اِیمان میں کمی کا ایک سبَب:
جہاں تک صریح جھوٹ کا تعلُّق ہے جیسا کہ ایک انصاری نےایک نابیناکوامیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعثمان غنیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے بارے میں کہا کہ یہ نعیمان ہے۔یوں ہی لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ بے وقوفوں کے ساتھ تفریح کرتے ہیں اور ان کو دھوکے میں ڈالنے کے لئے کہتے ہیں کہ فلاں عورت تم سے شادی کرنے میں رغبت رکھتی ہے ،تو اگر اس میں ایساضرر ہو جو دل آزاری کا باعث بنے تو یہ حرام ہے اور اگر صرف خوش طبعی کے لئے ہو تو ایسے شخص کو فاسق نہیں کہا جا ئے گا لیکن اس سےایمان کے درجے میں کمی واقع ہو جا تی ہے ۔
کا مل ایمان:
حضورنبیّ رحمت، شفیع اُمَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:آدمی کا ایمان اس وقت تک کامل نہیں ہوسکتا جب تک وہ اپنے مسلمان بھائی کے لئے وہ چیز پسند نہ کرے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے اور جب تک اپنے مزاح میں جھوٹ سے نہ بچے۔(2)
رہا سرکار ِمدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا یہ فرمان کہ”آدمی لوگوں کوہنسانے کے لئے کوئی بات کہتا ہےتو اس کےسبَب نارِجَہَنَّم میں ثُرَیّا(ستارے کے فاصلے)سےبھی دور جا گرتا ہے۔“(3)تواس سے آپ کی مراد وہ بات ہے جس میں کسی مسلمان کی غیبت ہو یا جس سے کسی مسلمان کے دل کو اذیت پہنچتی ہو محض مزاح مراد نہیں ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الشمائل المحمدیة للترمذی، باب ماجاء فی صفة مزاح رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم، ص ۱۴۳، حدیث :۲۳۰ بتغیرقلیل
سبل الھدی والرشاد، جماع ابواب صفات المعنویة ، الباب الثانی والعشرون فی مزحہ،۷/ ۱۱۴
2…کنزالعمال ، کتاب الایمان والاسلام، الباب الاوّل فی الایمان والاسلام...الخ ،۱/ ۳۷،حدیث :۱۰۶
3…موسوعة الامام ابن ابی الدنیا، کتاب الصمت،۷/ ۶۹، حدیث :۷۱