Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
424 - 1245
	نِگاہ رکھنے والے سے حضرت سیِّدُنا مُعاذ بن جَبَل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی مراد اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی ذات تھی۔
	حضرت سیِّدُنا ابراہیم نَخَعِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیاپنی بیٹی سے یہ نہیں فرماتے تھے کہ میں تمہارے لئے شکَّر  خریدوں گا بلکہ فرماتے: تمہارا کیا خیال ہے اگرمیں تمہارے لئے شکَّر خریدلوں کیو نکہ بعض اوقات شکَّر حاصل نہیں ہوتی تھی۔
	آپ کی تلاش میں جب کوئی شخص آپ کے گھر آتا اور آپ اس سے ملاقات کو ناپسند کرتے تو آپ لَونڈِی سے فرماتے :اس سے کہہ دو کہ تم انہیں مسجد میں تلاش کرو اور یہ مت کہنا کہ یہاں نہیں ہیں تاکہ جھوٹ نہ ہو جائے۔ 
	 حضرت سیِّدُناعامرشَعْبِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے گھر کوئی آپ کاپو چھنے کے لئے آتااورآپ اس سے ملنے کو ناپسند کرتے تو آپ ایک دائرہ کھینچتے اور لونڈی سے فرماتے :اپنی انگلی کو اس میں رکھ کر کہو:یہاں نہیں ہیں۔
جھوٹ سے ملتی جلتی بات سے بھی بچو:
	یہ تمام صورتیں ضرورت کے وقت ہیں اوربِلا ضرورت ان کی اجازت نہیں   کیو نکہ توریہ  کرنے والا اگرچہ لفظوں میں جھوٹ نہیں بولتا لیکن دوسرا شخص اس سے خلاف حقیقت بات سمجھتا ہے، لہٰذا  یہ مکروہ  ضرور ہے۔ مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عُتْبَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں : میں اپنےوالد کے ساتھ حضرت سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز کی خدمت میں حاضرہواجب  میں آپ کے پاس سے نکلا تو مجھ پر چونکہ ایک نیا کپڑا تھا، لہٰذالوگ پو چھنے لگے :کیا یہ تمہیں امیر المؤمنین نے پہنایا ہے ؟تو میں (بطورِ توریہ) کہہ رہا تھا:اللہعَزَّ  وَجَلَّ امیرالمؤمنین کو جزائے خیر عطا فرمائے!یہ سن کر میرے والِدنے فرمایا: اے میرے بیٹے! جھوٹ اور جھوٹ سے ملتی جلتی بات سے بھی بچو۔
	یہ  توریہ سے منع فرما نا اس لئے تھا کیو نکہ ایسی صورت میں  فَخْر کی غرض سے لوگوں کو جھوٹے خیال پر پکا کرناپایا جارہا تھا اور یہ باطل غرض ہے اس میں کوئی فائدہ نہیں۔
توریہ  معمولی غَرَض کے سبَب بھی مُباح ہے:
	باطل غَرَض نہ ہو توتوریہ معمولی غرض کےسبب بھی مباح ہے جیسا کہ مزاح کے ذریعے دوسرے کے