Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
423 - 1245
توریہ کی مثالیں:
	حضرت سیِّدُنا مُطَرِّف  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ زیاد کے پاس گئے اس نے کافی دن بعد آنے پر آپ کو ملامت کی تو آپ نے اس پر یہ ظاہر کیا کہ آپ مریض تھے ۔چنانچہ آپ نے کہا: جب سے میں امیر کے پاس سے گیا ہوں میں نے اپنے پہلو کواللہ  عَزَّ  وَجَلَّ کے چاہے بغیربستر سے نہیں اٹھایا ۔
	حضرت سیِّدُنا ابراہیم نَخَعِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں: جب تمہاری کہی ہوئی بات کسی شخص تک پہنچ جائے اور تم جھوٹ بولنا نا پسند کرو تو کہو:اِنَّ اللّٰهَ لَيَـعْلَمُ مَا قُلْتُ مِنْ ذٰلِكَ مِنْ شَیْءٍیعنی اللہ  عَزَّ  وَجَلَّجانتا ہےمیں نےاس سلسلےمیں کچھ نہیں کہایا اللہ عَزَّ  وَجَلَّجانتا ہے جو کچھ میں نےاس سلسلےمیں کہا۔
	تو سننے والا اس کے قول”مَا“سےحرف  نفی سمجھے گا اور کہنے والے کے نزدیک یہ ابہام کے لئےہوگا۔
حکایت :نگاہ رکھنےوالا
	حضرت سیِّدُنا مُعاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہامیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی طرف سے عامل تھے۔ جب آپ واپس آئےتوآپ کی زوجہ نےپوچھا:عامِلِیْن اپنے گھر والوں کے لئے جو کچھ لاتے ہیں آپ ان میں سے کیا چیز لا ئے ہیں؟ چونکہ آپ کچھ بھی لے کر نہیں آئے تھےتوآپ  نے کہا: میرے ساتھ ایک نگاہ رکھنے والا تھا۔زوجہ نے کہا:آپ رسولُاللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماورامیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناابوبکرصدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  کے نزدیک توقابل اعتماد تھے توامیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے آپ کے سا تھ نگاہ رکھنے والا کیوں بھیجا؟آپ کی زوجہ نےنگاہ رکھنے والی  بات دیگر عورتوں سے بھی کہی اورامیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعمرفاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی شکایت کی۔جب امیرا لمؤمنینرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ تک یہ بات پہنچی تو آپ نے حضرت سیِّدُنا مُعاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو بلاکر پوچھا:کیا میں نے آپ کے ساتھ کوئی نگاہ رکھنے والا بھیجا تھا؟ حضرت سیِّدُنا مُعاذ بن جبل  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کی:سِوائے اس کے میں نے کوئی ایسی بات نہیں پائی جس کے ذریعے میں  اس کے سامنےعذر بیان کرتا۔امیرالمؤمنینرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ مسکرا دئیے اور حضرت سیِّدُنا مُعاذ بن جبلرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو کچھ دے کر فرمایا:اس کے ذریعے اسے راضی کرو۔