سرکارِمدینہ،قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:مَنْ کَذَبَ عَلَیَّ مُتَعَمِّدًافَلْیَتَبَوَّاْ مَقْعَدَہُ مِنَ النَّارِیعنی جو جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھے وہ اپنا ٹھکانا جہنم بنالے۔(1)
جھوٹ کا اِرتِکاب ضرورت کی بنا پر کیا جاتا ہے اور احادیث گھڑنے میں کوئی ضرورت نہیں کیو نکہ سچ کے ہوتے ہوئے جھوٹ کی طرف مجبور ہونے کی ضرورت باقی نہیں رہتی اور جس قدر آیات واحادیث موجودہیں، ان کے ہوتے ہوئے کسی غیر کی محتاجی نہیں ہے اور کہنے والے کا یہ کہنا کہ ”یہ احادیث بار بار سنی جاچکی ہیں،ان کا اَثَر باقی نہیں رہا اور جونئی بات ہوتی ہے اس کا اثر زیادہ ہوتا ہے “تو یہ بے ہودہ خیال ہے کیونکہ یہ بات ان اغراض میں سے نہیں ہےجورسولُاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر جھوٹ باندھنے کی خرابی کے برابر ہو سکےاور اگر اس کا درواز کھول دیا جائے تو یہ ایسےامور کا سبب بن جائے گا جو شریعت کو بِگاڑ کر رکھ دیں گے،لہٰذا اس کا خیر ،اس کے شر کے برابر اصلاً نہیں اور رسولِ خدا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر جھوٹ باندھنا توان کبیرہ ترین گناہوں میں سے ہے جس کےبرابر کوئی چیز نہیں۔ہم اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اور تمام مسلمانوں کو معاف فرما ئے!
تیسری فصل: تَورِیہ(2)سے بچنے کا بیان
بزرگانِ دین سے منقول ہے کہ توریہ کے سبب جھوٹ کی حاجت نہیں رہتی۔امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں:توریہ میں وہ چیز ہے جو آدمی کو جھوٹ سے بے نیاز کر دیتی ہے۔یہ بات حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا وغیرہ سے بھی مروی ہے۔اس سے ان حضرات کی مراد یہ ہے کہ جب آدمی جھوٹ کہنے پر مجبور ہو جا ئےتب توریہ کی اجازت ہے۔بہر حال جب حاجت اور ضرورت نہ ہو توکنایۃً اور صراحتًا دونوں طرح جھوٹ بولنا جا ئز نہیں البتہ توریہ میں جھوٹ کے مقابلے میں گناہ کم ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… بخاری ، کتاب الادب، باب من سمی باسماء الانبیاء،۴/ ۱۵۴، حدیث : ۶۱۹۷
2… تَورِیہ: ایسالفظ یافعل جس کے ظاہری معنی کو چھوڑکر دوسرا معنیٰ مرادلیاجائے جو صحیح ہے۔مثلاً کسی کو کھانے کے لئے بلایا وہ کہتا ہے میں نے کھانا کھالیا۔ اس کے ظاہر معنی یہ ہیں کہ اس وقت کا کھانا کھالیا ہے مگر وہ یہ مراد لیتا ہے کہ کل کھایا ہے۔(ماخوذازبہارشریعت،۳/۵۱۸)