Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
421 - 1245
داخل ہے جسے کسی نےتحقیق کئے بغیر بیان کیا ہوجبکہ فتوی اور روایت حدیث سے غرض اپنی فضیلت کا اظہار ہوجس کی وجہ سے وہ لَااَدْرِیْ( یعنی میں نہیں جانتا)نہ کہے تو یہ حرام ہے۔
مُباح جھوٹ بھی لکھا جاتا ہے:
	بچوں کا حکم بھی عورتوں کی طرح ہے کیونکہ بچہ اس وقت تک مکتب جانے کے لئے آمادہ  نہیں ہوتاجب تک کہ اس سے جھوٹاوعدہ نہ کیا جائے یا اسےجھوٹی دھمکی  نہ دی جائےیا جھوٹ موٹ ڈرایا نہ جائے تو ایسا جھوٹ مباح ہے۔البتہ ہماری روایت کردہ احادیث سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ہر جھوٹ لکھا جاتا ہے اور جھوٹ کبھی مباح بھی ہوتاہے تو اس پر اس سےحساب لیاجائے گا اور جھوٹ بولنے کا مقصد اس سے دریافت کیا جائے گا اگر مقصد صحیح ہوا تو پھر اسے مُعاف کر دیا جا ئے گاکیو نکہ جھوٹ کو محض اصلاح(درستی) کے ارادے سے مباح کیا گیا ہے لیکن چونکہ اس میں دھوکہ بہت ہو تا ہےاس لئے بعض اوقات اس کا باعث خود کو خوش کرنا اوروہ غرض ہوتی ہے جس کی اسے حاجت نہیں ہوتی اور ظاہری طور پر وہ اصلاح کا بہانہ کرتا ہے تو اسی وجہ سے اس کا جھوٹ لکھا جاتا ہے۔
جھوٹ سے بچنے میں عافیت ہے مگر یہ کہ  جب...!
	جو شخص جھوٹ بولنا چاہتا ہے اسے اس بات کو جاننے کے لئے  مشقت میں پڑنا پڑتاہےکہ جس مقصد کوحاصل  کرنے کے لیے وہ جھوٹ بولنا چاہتا ہے کیا وہ شریعت میں سچ سے زیادہ اہم ہے یا نہیں اوریہ بہت پیچیدہ معاملہ ہے ،احتیاط اسی میں ہے کہ جھوٹ کو چھوڑ دیا جا ئے سوائے یہ کہ جھوٹ بولنا واجب ہو جا ئے کہ اسے چھوڑنا جا ئز نہ ہو جیسا کہ سچ بولنے سے مسلمان بھائی  کاخون بہتا ہویا ایسے گناہ کبیرہ کا ارتکاب ہوتا ہو جوگردن  سے دین کا پٹّا اُترنے کا سبَب بنتا ہوخواہ کیسے بھی ہو۔
احادیث گھڑنے والوں کا رد:
	بعض لوگوں نے یہ خیال کیا کہ فضائل اعمال اور گناہوں کی سختی واضح کرنے کے سلسلے میں احادیث گھڑنا جائز ہے اور اس سلسلے میں وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا ارادہ درست ہے حالانکہ یہ واضح غلطی ہے کیو نکہ