کے اہم ہو نے میں شک ہو تو اصل جھوٹ کی حُرمت ہے،لہٰذ ا اصل کی طرف لوٹا جا ئے گااور چونکہ مقاصد کے درجات کو سمجھنا مشکل ہے اس لئے آدمی کو جھوٹ سے ممکنہ حد تک بچنا چاہئے۔ اسی طرح جب جھوٹ کی حاجت ہو تومستحب یہ ہے کہ اپنی اغراض کو چھوڑ کر جھوٹ سے دور بھاگے مگر جب جھوٹ سےکسی دوسرے کی غرض متعلق ہو تو اس کے حق کے سلسلے میں چَشْم پوشی کرنا اور اس کو نقصان پہنچانا جائز نہیں۔
لوگوں کے اکثر جھوٹ محض اپنے نفسوں کو خوش کرنے کے لئے پھر مال اور جاہ ومنصب کی زیادتی اور ایسے کاموں کے لئے ہوتے ہیں جن کے فوت ہو جانےسے کوئی خرابی لازم نہیں آتی حتّٰی کہ عورت اپنےخاوند کےایسے کاموں کوبیان کرتی ہے جن کے ذریعے وہ بر تری جتا تی ہےاورسوکنوں کو جلانے کے لئے جھوٹ بولتی ہے اور یہ حرام ہے ۔
دوجھوٹے کپڑے پہننے والے کی مانند:
حضرت سیِّدَتُنااَسماءبنت ِابوبکرصِدِّیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَابیان کرتی ہیں: میں نے ایک عورت کو رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے سوال کرتے ہوئے سنا کہ میری ایک سوکن ہے اگر میں اس کو جلانے کے لئے یہ کہوں کہ میرا شوہرمجھےزیادہ دیتا ہےحالانکہ وہ نہیں دیتا تو کیا اس میں مجھ پر کوئی گناہ ہے؟ ارشادفرمایا: نہ دی گئی چیز کو ظاہر کرنے والادوجھوٹے کپڑے پہننے والے کی مانند ہے (1)۔(2)
سرکار ابدِقرار ،شافع روز شمارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکافرمان عالی شان ہے:جو اپنی غذا وہ ظاہر کرے جو وہ نہ کھاتا ہو یا کہےمیرے پاس یہ چیز ہے حالانکہ وہ اس کے پاس نہ ہویا کہےمجھے فلاں چیزدی گئی ہے حالانکہ اسے نہ دی گئی ہوتو وہ بروز قیامت دو جھوٹے کپڑے پہننے والے کی طرح ہو گا۔
اس میں مفتی کا وہ فتوٰی بھی داخل ہےجو اس نے بلا تحقیق بیان کیا ہو اوروہ روایت حدیث بھی اس میں
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… یعنی وہ دوجھوٹ بولنے والے یا دوجھوٹی چیزوں کو ظاہر کرنے والےکی طرح ہے اور”میرا شوہرمجھےزیادہ دیتا ہے“اس جملے میں بھی دوجھوٹ ہیں ایک تو یہ کہ میرا شوہر مجھے زیادہ دیتا ہے اور دوسرا یہ کہ میرا شوہر میری سوکن سے زیادہ مجھ سے محبت کرتا ہے۔(مرقاة المفاتيح،كتاب البيوع، ۶ /۲۱۲،تحت الحدیث:۳۰۲۳)
2… بخاری، کتاب النکاح، باب المتشبع بما لم ینل...الخ ،۳/ ۴۶۸،حدیث :۵۲۱۹