میں راسخ ہوتے ہیں کہ اکثر مُتَکَلِّمِیْن اور دین میں مضبوط سمجھے جانے والے بلکہ زمینی آسمانی سلطنتوں میں غور وفکر کرنے والے بہت سے عبادت گزار انہی کے سبب حق تعالیٰ کی تجلی سے محروم رہے اور یہ عقائد ان لوگوں اور اشیاء کی حقیقتوں کے درمیان حجاب بن گئے۔
٭…پانچویں وجہ:حق تعالیٰ کی تجلی سے محرومی کا ایک سبب مطلوبہ حقیقت تک پہنچنے کی سمت کا معلوم نہ ہونا ہے کیونکہ طالب علم کے لئے علم کا حصول اسی وقت فائدہ مند ہوتا ہے جب وہ مطلوب تک پہنچانے والے علوم کے بارے میں جانتا ہو۔ پھر اگر انہیں خوب اچھی طرح سے یاد کرلے اور علمائے دین کے معروف طریقے کے مطابق انہیں اپنے ذہن میں خاص ترتیب دے تو وہ مطلوبہ جہت تک پہنچ جاتا ہے اور اس کے دل پر مطلوب کی حقیقت روشن ہوجاتی ہے۔ کیونکہ غیرفطری بلکہ کسی بھی علم کے حصول کے لئے پہلے سے ان دو باتوں کاپایا جانا ضروری ہے جنہیں مخصوص طریقے پر ملایا جائے تو ان کے ملاپ سے تیسرا اور مطلوبہ علم حاصل ہوتا ہے جیسے نر اور مادہ کے ملاپ سے بچے کی پیدائش ہوتی ہے پھر یہ کہ گھوڑے کا بچہ گدھے، اونٹ اور انسان سے نہیں بلکہ اس کے لئے اِسی جانور یعنی گھوڑے اور گھوڑی کا ملاپ ضروری ہے۔ جس طرح بچے کا حصول مخصوص طریقے سے ہی ممکن ہے اسی طرح ہر علم کے حصول کے لئے پہلے سے ان دو باتوں کا پایا جانا ضروری ہے۔نیز ان کے ملاپ اور ترتیب کا ایک مخصوص طریقہ ہے جس کے بعد ہی مطلوبہ علم حاصل ہوتا ہے، لہٰذا اس اصول اور مخصوص ترتیب و ملاپ سے ناواقف ہونا حصول علم سے مانع ہے۔ اسے اُس مثال سے بھی سمجھا جا سکتا ہے جو ہم نے تیسری وجہ میں بیان کی ہے۔
اس کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ جو شخص آئینہ میں اپنی گدی دیکھنا چاہتا ہے وہ یاتو چہرے کے سامنے ہی آئینہ کو بلند کرے گا اس صورت میں آئینہ گدی کے سامنے ہی نہیں ہوگا کہ گدی اس میں نظر آئے اور اگر وہ آئینہ گدی کے سامنے رکھ کر بلند کرے تو نتیجتاً آئینہ اس کی نظروں سے پھر جائے گا اب نہ آئینہ اسے نظر آئے گااور نہ گدی اس میں دیکھ سکے گا۔ یقینًا ایک اور آئینہ کی حاجت ہے جو گردن کے پیچھے اس طرح رکھا جائے کہ چہرے کے سامنے رکھے آئینہ کے ذریعے اس پیچھے والے آئینہ میں دیکھا جاسکے تاکہ اس پیچھے والے آئینہ میں نظرآنے والی گدی نظروں کے سامنے رکھے آئینہ میں دیکھی جاسکے۔اشیاء کی معرفت کے سلسلے