Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
419 - 1245
 انکار کردے اور کہہ دے کہ نہ میں نے زنا کیا ہے اور نہ شراب پی ہے۔
بے حیائی کا اظہاربھی بےحیائی ہے:
	حضورنبیّ پاک،صاحِبِ لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: جو شخص زنا جیسی فُحش برائیوں میں سے کسی کا مرتکب ہو تواسے چاہئے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کے پردے میں چھپ جائے۔(1)
	اس کی وجہ یہ ہے کہ بے حیائی کا اظہار بھی بے حیائی ہے  تو آدمی کے لئے جائز ہے کہ وہ زبان کے ذریعے اپنی جان،اپنےمال جسے ظلماً لیا جارہا ہےاور عزت کی حفاظت کرے اگرچہ اسے جھوٹ بولنا پڑ جا ئے۔
دوسرے کی خاطر جھوٹ بولنے کی رخصتیں:
	جہاں تک دوسرے کی عزت کا تعلق ہے  تواس کی صورت یہ ہے کہ اس سے اس کےمسلمان بھائی کے راز کے بارے میں پو چھا جا ئے تو اس کے لئے جائز ہے کہ وہ اس کے معلوم ہونے سے انکار کر دے اوریہ بھی جائز ہے کہ جھوٹ بول کردو شخصوں اوراپنی بیویوں کے درمیان صلح کرادےاس طرح کہ ہر ایک کے سامنے یہ ظاہر کرے کہ وہ اسےسب  سےزیادہ پسندکرتا  ہے۔اگراس کی بیوی کسی ایسے وعدے کے بغیر اس کی بات نہ مانے جس پر وہ قادر نہیں تو اس کے دل کو خوش کرنے کے لئے فی الحال وعدہ کر لے یا وہ کسی  شخص سے معذرت کرے جس کے بارے میں یہ جانتا  ہو کہ وہ کوتاہی کا اقرار کرتے ہوئےاورتھوڑی محبت کے اظہارسے راضی  نہیں ہوگا توایسی صورت میں  جھوٹ بول کر کوتاہی کے انکار اور زیادہ محبت کے اظہار میں حَرَج نہیں۔لیکن حد اس میں یہ ہے کہ جھوٹ بولنا ممنوع ہے،اگر ان جگہوں میں سچ بو لنے سے کوئی خرابی پیدا ہوتی ہو تو ان میں سے ایک کا دوسرے کے ساتھ موازنہ کرےاورانصاف کے ترازو میں تولے پھرجب وہ جان لے کہ سچ سے  حاصل ہونے والی برائی شریعت میں جھوٹ سے زیادہ سخت ہے تو اس کے لئے جھوٹ بو لنا جا ئز ہے اور اگر کمترہو تو سچ بولنا واجب ہے کبھی دونوں طرفیں اس طرح برابر ہو تی ہیں کہ ان میں سے کسی جانب کو ترجیح دینے میں تَرَدُّد ہوتا ہے،اس وقت سچ کی طرف میلان زیادہ مناسب ہے کیو نکہ جھوٹ کو کسی ضرورت یا اہم حاجت کی وجہ سےمُباح کیا گیا ہےچنانچہ اگر حاجت
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الموطأ للامام مالک، کتاب الحدود، باب ماجاء فیمن اعترف...الخ ،۲/ ۳۳۶،حدیث : ۱۵۸۸