تین جھوٹ کے علاوہ ہر جھوٹ لکھا جاتا ہے:
حضرت سیِّدُنا نَواس بن سَمعان کِلابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ آقائے نامدار،دوعالم کے مالک و مختار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:کیا وجہ ہے کہ میں تمہیں جھوٹ پر اس طرح گرتے دیکھتا ہوں جس طرح پروانے آگ( یعنی روشنی)میں گرتے ہیں؟آدمی کا ہر جھوٹ یقینی طور پر لکھا جاتا ہے سوائے یہ کہ آدمی جنگ میں جھوٹ بولے کیونکہ جنگ میں فریب ہی ہوتا ہے یادو شخصوں کے درمِیان بُغْض وعداوت ہواور وہ ان کے درمِیان صُلْح کرائے یا اپنی زوجہ کو خوش کرنے کے لئے کوئی بات کہے۔(1)
حضرت سیِّدُنا ثَوبانرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :ہرجھوٹ میں گناہ ہے البتہ جس سے کسی مسلمان کو نفع پہنچے یا کسی مسلمان سےکوئی ضرر دور ہو اس میں گناہ نہیں۔
آسمان سے گرایاجانا آسان ہے:
امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علیُّ المرتضٰی شَیْرِخداکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمفرماتے ہیں: جب میں تم سے حضورنبیّ رحمتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی کوئی حدیث بیان کروں توخدا کی قسم!اگر مجھے آسمان سے گرا دیا جائے تو یہ مجھے آپ پر جھوٹ باندھنےسے زیادہ محبوب ہےمگرجنگ کے موقعہ پر (دشمن کو دھوکہ دینے کے لئے) تم سے خلاف حقیقت بات کہہ دوں (تو یہ جھوٹ نہیں ہے)کیونکہ جنگ دھوکہ دہی کا نام ہے۔
صحیح مقصد کے لئے جھوٹ بولنا جائز ہے:
یہ تین مَواقع ایسے ہیں جن میں جھوٹ بو لنے کی صریح اجازت موجود ہےاوران تین مواقع کی طرح کچھ اور بھی مواقع ہیں جہاں جھوٹ بولنے کی رخصت ہے جبکہ ان سے اپنا یا کسی دوسرے کا صحیح مقصود متعلق ہو۔ اپنے مقصد کی مثال یہ ہے کہ اسے کو ئی ظالم پکڑلے اور مال کا پوچھے تو اس کے لئے جائز ہے کہ وہ مال کے اپنے پاس ہو نے کا انکار کر دےیا بادشاہ پکڑلےاور اس سےبے حیائی کے مُتَعَلِّق پوچھے جس کاوہ مُرتکِب ہوا ہے اور وہ بے حیائی ایسی ہے جو اس کے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے درمیان ہے تو اس کے لئے جائز ہے کہ اس کا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…شعب الایمان ، باب فی حفظ اللسان،۴/ ۲۰۴،حدیث :۴۷۹۸