Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
417 - 1245
 کی:کیا میں اس سے وعدہ کرلوں (کہ میں تمہارے لئے یہ یہ کروں گا)؟ارشادفرمایا:تم پرکوئی گناہ نہیں۔(1)
کم ہی گھر محبت پر قائم ہوتےہیں:
	مروی ہے کہ ابن ابی عَذرَہ دُؤلی امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرفاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے دورِ خِلافت میں عورتوں سے نکاح کرکے خُلَعْ کرا لیا کرتے تھے اور اس سبب سے وہ لوگوں کی گفتگو کا موضوع بن گئے تھے ۔امیر المؤمنینرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے جب یہ بات سنی تو آپ نے اسے ناپسند فرمایا۔ابْنِ اَبی عَذرَہ کو جب معلوم ہواکہ آپ نے اسےناپسند کیا ہےتوحضرت سیِّدُنا عبداللہ  بن اَرْقَمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا ہاتھ پکڑ کر انہیں اپنے گھر لے آئےاور اپنی زوجہ سے کہا:میں تمہیں اللہ  عَزَّ  وَجَلَّ کی قسم دے کر پو چھتا ہوں :کیا تم مجھے ناپسند کرتی ہو؟اس نے کہا:مجھےاللہ  عَزَّ  وَجَلَّ کی قسم نہ دو ۔انہوں نے کہا:میں تمہیں اللہ  عَزَّ  وَجَلَّ کی قسم دے کر پوچھتاہوں۔اس نے کہا:ہاں۔میں تمہیں ناپسند کرتی ہوں ۔انہوں نے حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن ارقمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے کہا:کیا آپ نے سن لیا؟پھر دونوں امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرفاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس آئے اور ابْنِ اَبی عَذرَہ نے کہا:آ پ حضرات یہ گفتگو کرتے ہیں کہ میں عورتوں پر ظلم کرتا ہوں اور ان سے خُلَعْ کرتا ہوں۔آپ حضرت ابْنِ اَرْقَمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے پوچھ لیجئے۔ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ان سے پوچھا ،انہوں نےواقعہ بیان کر دیا۔ آپ نے ابْنِ اَبی عَذرَہ کی زوجہ کو بلوایا وہ اپنی پھوپھی کے ساتھ  حاضر ہو ئیں تو آپ نے ارشاد فرمایا:تم نے ہی اپنے شوہر سے یہ کہا ہے کہ تم اسے ناپسند کرتی ہو ؟اس نے کہا:سب سے پہلے میں توبہ کرتی ہوں اور اللہعَزَّ  وَجَلَّ کی طرف رُجُوع لاتی ہوں۔انہوں نے مجھے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی قسم دے کر پوچھا تھا، لہٰذا میں جھوٹ نہ بول سکی،اےامیرالمؤمنینرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ! کیا میں ایسی حالت میں جھوٹ بول لیتی؟ فرمایا:ہاں!جھوٹ بول لیتی ۔اگرتم میں سے کوئی بھی ہم مردوں  میں سے کسی کونا پسند کرتی  ہو تو  اس سے یہ نہ کہے میں تجھے نا پسند کرتی ہوں کیونکہ  کم ہی ایسے گھر ہوتے ہیں جو محبت پر قائم ہوتے ہیں مگر  لوگ اسلام اور خاندانی سلسلے کے سبَب مل جل کر رہتے ہیں۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الموطأللامام مالک، کتاب الکلام، باب ماجاء فی الصدق والکذب،۲/ ۴۶۷،حدیث :۱۹۰۹