کرانے کے موقع پر(۲)جنگ کے موقع پر اور(۳)آدمی کااپنی زوجہ سے اور زوجہ کا اپنے خاوندسے کوئی بات کہنے کے موقع پر۔(1)
آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاہی بیان کرتی ہیں:سرکارِمدینہ،راحَتِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ باقرینہ ہے: وہ شخص جھوٹا نہیں ہے جو دو آدمیوں کے درمِیان صُلْح کرانے کے لیے بھلی بات کہے یابھلائی کی بات پہنچائے۔(2)
حضرت سیِّدَتُنا اَسماء بنْتِ یزیدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا بیان کرتی ہیں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب،دانائے غیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: آدمی کا ہر جھوٹ لکھا جاتا ہےلیکن اس شخص کا جھوٹ نہیں لکھا جاتا جو دو مسلمانوں کے درمِیان صُلْح کرانے کےلئےجھوٹ بولے۔(3)
لوگوں میں صلح کراؤاگر چہ جھوٹ بولنا پڑے:
حضرت سیِّدُنا ابو کاہِلرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں:دو صحابہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے درمیان کچھ بحث ہو ئی حتی کہ دونوں نے باہم قَطْع تَعَلُّق کر لیا تو میں نے ان میں سے ایک سے ملاقات کی اور کہا:تمہارافلاں کے ساتھ کیا معاملہ ہے؟ میں نے تواس سے تمہاری بہت تعریف سنی ہے پھر میں دوسرے سے ملا اور اس سے بھی اسی طرح کہا حتّٰی کہ ان دونوں کے مابین صلح ہو گئی پھرمیں (نے اپنے دل میں) کہا:میں نے دونوں کے درمیان صلح تو کرادی لیکن (جھوٹ بول کر)خود کو ہلاک کردیا چنانچہ میں نے اس بات کی خبر رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو دی تو آپ نے ارشاد فرمایا:اے ابو کاہل! لوگوں کے درمیان صلح کرایا کرو اگرچہ جھوٹ بولنا پڑے۔ (4)
حضرت سیِّدُنا عطاء بن یَسار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّاربیان کرتے ہیں: ایک شخص نے حضورنبیّ رحمتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سےعرض کی:کیا میں اپنی اہلیہ سے جھوٹ بول سکتا ہوں؟ارشادفرمایا:جھوٹ میں کوئی خیر نہیں۔عرض
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…شعب الایمان ، باب فی حفظ اللسان،۴/ ۲۰۴ ،حدیث :۴۷۹۸ عن نواس بن سمعان کلابی،بتغیر
2… بخاری،کتاب الصلح،باب لیس الکاذب الذی یصلح بین الناس،۲/ ۲۱۰،حدیث:۲۶۹۲
3…شعب الایمان، باب فی حفظ اللسان،۴/ ۲۰۴، حدیث :۴۷۹۸ عن نواس بن سمعان الکلابی
4…المعجم الکبیر،۱۸/ ۳۶۱،حدیث :۹۲۷