جھوٹ کی ایک وُجُوبی صورت:
حضرت سیِّدُنا میمون بن مہران عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان فرماتے ہیں:بعض مواقع پر جھوٹ بولنا ،سچ کہنے سے بہتر ہے، تمہارا کیا خیال ہے کہ ایک شخص کسی دوسرے کو قتل کرنے کے لئے اس کے پیچھے دوڑ رہا ہو اور وہ کسی گھر میں داخل ہو جائے اور قتل کاارادہ کرنے والا شخص تمہارے پاس پہنچ کر پوچھے:کیا تم نے فلاں کو دیکھا ہے ؟تو تم کیا کہوگے؟ کیا یہ نہیں کہو گے کہ میں نے اسے نہیں دیکھا ؟کیا تم سچ کہو گے؟یہ وہ صورت ہے جس میں جھوٹ بولنا واجب ہے ۔
جھوٹ کب مُباح ہو تا ہے اور کب واجب؟
ہم کہتے ہیں کہ کلام مقاصد تک پہنچنے کا وسیلہ ہوتا ہےتو ہر اچھا مقصود جس تک پہنچنا سچ اور جھوٹ دونوں کے ذریعے ممکن ہو اس میں جھوٹ بولنا حرام ہے اور اگر اس تک پہنچنا سچ کے بجائے صرف جھوٹ کے ذریعے ممکن ہو تواگر اس مقصد کو حاصل کرنا مُباح ہو تو اس میں جھوٹ بولنا مباح ہے۔اگر مقصود واجب ہو تو جھوٹ واجب ہوگا جیسے مسلمان کے خون کی حفاظت واجب ہےچنانچہ جب سچ بولنے میں ظالم سے روپوش کسی مسلمان کا خون بہتا ہو تو اس میں جھوٹ بولنا واجب ہے اور جب جنگی مقاصد ،دو ناراض ہونے والوں کے مابین صلح، مظلوم کے دل کو خوش کرنابغیر جھوٹ کے حاصل نہ ہو تا ہو توجھوٹ بولنا مباح ہے لیکن جس حد تک ممکن ہو جھوٹ سے بچنا چاہئےکیو نکہ جب وہ اپنے اوپر جھوٹ کا دروازہ کھو لے گا تو اس بات کا خوف ہے کہ وہ بلا ضرورت جھوٹ بولے اور حد ضرورت پر اِکتفا نہ کرے تو اصل کے اعتبار سے جھوٹ حرام ہے البتہ ضرورت کی وجہ سےجائز ہے۔ ضرورت کے سبب جائز ہونے پر حضرت سیِّدتُنا اُمِّ کُلثُوم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے مروی روایت دلالت کرتی ہے۔
تین مواقع پر جھوٹ بولنے کی اجازت ہے:
حضرت سیِّدَتُنااُمِّ کُلْثُومرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَابیان کرتی ہیں کہ میں نےحضورنبیّ کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوتین مواقع کے علاوہ کبھی جھوٹ کی اجازت دیتے ہوئے نہیں سنا:(۱)…لوگوں کے درمیان صلح