آگ میں زیادہ گہرائی تک جائے گا۔
﴿6﴾…حضرت سیِّدُناابْنِسَمَّاک عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَّزَاق فرماتے ہیں:میرا نہیں خیال کہ مجھے جھوٹ چھوڑنے پر اجر و ثواب ملتا ہو کیو نکہ میں اسےغیرت کی بنا پر چھوڑتا ہوں۔
﴿7﴾…حضرت سیِّدُناخالد بن صَبِیْحرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے پوچھا گیا:کیاایک بار جھوٹ بولنےپر کسی کو جھوٹا کہا جا سکتا ہے؟ارشاد فرمایا:ہاں۔
﴿8﴾…حضرت سیِّدُنا مالک بن دینارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار فرماتے ہیں:میں نے کسی کتاب میں پڑھا ہےکہ ہر خطیب کے خطبے کو اس کے عمل پر پیش کیا جائے گا،اگر وہ سچا ہو ا تو اس کی تصدیق کی جائے گی ۔اگر جھوٹا نکلا تو اس کے ہونٹوں کو آگ کی قینچیوں سے کاٹا جائے گا،جب بھی ان کو کاٹا جائے گاتو یہ دوبارہ پیدا ہوجائیں گے۔
﴿9﴾…آپ ہی کا فرمان ہے: سچ اور جھوٹ دونوں دل میں لڑتے رہتے ہیں حتّٰی کہ ان میں سے ایک دوسرے کو نکال دیتا ہے۔
﴿10﴾…حضرت سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز نےولید بن عبد الملک سے کسی چیز کے بارے میں گفتگو کی تو اس نے کہا:آپ جھوٹ کہتے ہیں توحضرت سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزنے ارشاد فرمایا:خدا کی قسم!مجھے جب سے یہ بات معلوم ہو ئی ہے کہ جھوٹ آدمی کو عیب دار کر دیتا ہے اس وقت سے میں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا۔
دوسری فصل: کن مواقع پر جھوٹ بولنا جائز ہے
جان لیجئے! جھوٹ فی نفسہٖ حرام نہیں ہے بلکہ اس وجہ سے ہے کہ اس میں مخاطَب یا کسی دوسرے کو ضرر پہنچتا ہےکیو نکہ جھوٹ کا کم سے کم درجہ یہ ہے کہ جسے جھوٹی خبر دی گئی ہے وہ خلاف ِحقیقت کا یقین کرلیتا ہے یوں وہ حقیقت سے بے خبر ہوجاتا ہے اور کبھی اس بے خبری کے سبب دوسرے کو نقصان بھی پہنچ جاتا ہے مگر عموماً ایسا نہیں ہوتا کبھی بے خبری میں مَنْفَعَت اور مَصْلَحَت بھی ہوتی ہے اور جھوٹ بولنے کے سبب اس چیز سے بے خبری رہتی ہے تو(مَنْفَعَت ومَصْلَحَت کے پیش نظر) اسی صورت میں جھوٹ بولنے کی اجازت ہے اور بعض اوقات جھوٹ بولنا واجب ہوتا ہے۔