Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
413 - 1245
 بولتے رہوکیو نکہ یہ نیکی کے ساتھ ہے اوریہ دونوں (یعنی سچ بولنے والا اور نیکوکار)جنت میں ہوں گے۔(1)
﴿33﴾…سرکارِ مدینہصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمنےحضرت معاذرَضِیَ اللہُ عَنْہسےفرمایا:میں تمہیں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے ڈرنے ، سچ بولنے، اَمانت ادا کرنے،عہد پورا کرنے،سلام کو عام کرنےاور عاجزی اختیار کرنے کی نصیحت کرتا ہوں۔(2)
جھوٹ کے متعلق10اقوال بزرگان ِ دین:
﴿1﴾…امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمفرماتے ہیں:اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے نزدیک سب سے زیادہ خطاکرنے والی جھوٹی زبان ہے اور بدترین نَدامت قیامت کے دن کی ندامت ہے۔
﴿2﴾…حضرت سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز فرماتے ہیں:جب سے میں نے تہبند باندھنا شروع کیا ہے (یعنی جب سے شعور آیا ہے)کبھی  جھوٹ نہیں بولا۔
﴿3﴾…امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں:جب تک ہماری تم سے ملاقات نہ ہو اس وقت تک  ہمیں تم میں سب سے زیادہ محبوب وہ شخص ہو تا ہے جس کا نام سب سے اچھا ہو اور جب ہم تم سے ملاقات کر  لیتے ہیں تو ہمیں سب سے اچھا وہ لگتا ہے جو تم میں سب سے زیادہ خوش اخلاق ہو پھر جب ہم تمہیں آزما لیتے ہیں تو ہمیں تم میں سب سے زیادہ وہ شخص پسند آتا ہےجو سب سے زیادہ سچ بولنے والا اور سب سے زیادہ اَمانت دار ہو۔
﴿4﴾…حضرت سیِّدُنا میمون بن ابو شبیبرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:میں بیٹھا خط لکھ رہا تھا، ایک حرف پر آکر رک گیا کہ اگراسے لکھتا ہو ں توخط کو خوبصورت بنا دیتا ہوں لیکن جھوٹ سے اپنا دامن نہیں بچا پاتا چنانچہ میں نےاس کو چھوڑنے کا عزم کر لیا تو مجھےگھر کے ایک کونے سے ندا کی گئی:
یُثَبِّتُ اللہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَ فِی الۡاٰخِرَۃِ ۚ(پ۱۳،ابراھیم:۲۷)
ترجمۂ کنز الایمان: اللہ ثابت رکھتا ہے ایمان والوں کو حق بات پر دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں۔
﴿5﴾…حضرت سیِّدُناامام شَعْبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں: میں نہیں جانتا کہ جھوٹے یا بخیل میں سے کون
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…سنن ابن ماجہ ، کتاب الدعاء، باب الدعاء بالعفووالعافیة،۴/ ۲۷۳،حدیث :۳۸۴۹
2…مکارم الاخلاق للخرائطی، باب فضیلة صدق،۲/ ۲، حدیث : ۹۶