چیزوں کی ضمانت دو میں تمہیں جنت کی ضمانت دیتا ہوں ۔صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عرض کی: وہ کون سی چیزیں ہیں؟ ارشاد فرمایا:(۱)…جب تم میں سے کوئی بات کرے تو جھوٹ نہ بو لے۔(۲)…وعدہ کرے تو خلاف نہ کرے۔(۳)… (کسی راز پر)امین بنایا جائے تو خیانت نہ کرے۔(۴)…اپنی نگاہوں کو پست رکھے۔ (۵)…اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرے۔(۶)…اپنے ہاتھوں کو(حرام سے)روکے رکھے۔(1)
﴿22﴾…سرکارِ ابدِقرار،ہم بے کسوں کے مددگارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:بے شک شیطان كے پاس سرمہ،چاٹنے والی شےاور ناک میں ڈالنے والی شے ہے،پس اس کی چاٹنے والی شےجھوٹ ہےاور ناک میں ڈالنے والی شےغصہ ہے اور اس کا سرمہ نیند ہے۔(2)
﴿23﴾…امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نےمقام جابِیہ پراپنے خطبہ میں ارشاد فرمایا:رسولُاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہمارے درمیان اس طرح کھڑے ہو ئے جس طرح میں تم میں کھڑا ہوں اور ارشاد فرمایا: میرے صحابہ اور ان سے متصل زمانے والے لوگوں کے ساتھ اچھا سُلُوک کرنا (ان کے بعد)پھر جھوٹ پھیل جا ئے گا حتّٰی کہ آدمی کسی چیز پر قسم کھائے گا حالانکہ اس سے قسم کا مطالَبہ نہیں کیا گیا ہوگا، گواہی دے گا حالانکہ اس سے گواہی طلب نہیں کی گئی ہو گی۔(3)
﴿24﴾…اللہ عَزَّ وَجَلَّ کےمحبوب،دانائے غیوبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:جو میری طرف سے کو ئی حدیث بیان کرے حالانکہ وہ جانتا ہو کہ یہ جھوٹ ہے تو وہ بڑے جھوٹوں میں سے ایک ہے ۔(4)
﴿25﴾…سرکار ِدوعالَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:جو کسی مسلما ن کا مال ناحق ہتھیانے کے لئے جھوٹی قسم کھا ئے تووہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پرغضبناک ہو گا۔(5)
﴿26﴾…مروی ہے کہ حضورنبیّ پاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایک مرتبہ جھوٹ بو لنے کے سبب ایک
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المستدرک ، کتاب الحدود، باب ست یدخل بھا الرجل الجنة،۵/ ۵۱۳، حدیث :۸۱۳۱
2…شعب الایمان، باب فی حفظ اللسان،۴/ ۲۰۹، حدیث :۴۸۱۹
3…سنن الترمذی، کتاب الفتن، باب ماجاء فی لزوم الجماعة،۴/ ۶۷،حدیث :۲۱۷۲
4… مسلم، المقدمة، باب وجوب الروایة عن الثقات...الخ، ص ۷
5… مسلم، کتاب الایمان، باب وعید من اقتطع حق مسلم...الخ ، ص ۸۳، حدیث :۱۳۷