Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
41 - 1245
 کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں جھکے رہنے اور خواہشات کی پیروی نہ کرنے سے ہی دل کی نورانیت اور پاکیزگی میں اضافہ ہوتا ہے۔ اسی کے متعلق اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے: 
وَالَّذِیۡنَ جَاہَدُوۡا فِیۡنَا لَنَہۡدِیَنَّہُمْ سُبُلَنَا ؕ (پ۲۱،العنکبوت:۶۹)
ترجمۂ کنز الایمان:اور جنہوں نے ہماری راہ میں کوشش کی ضرور ہم انہیں اپنے راستے دکھا دیں گے۔
	منقول ہے کہ’’جواپنے علم پر عمل کرتا ہے اللہ عَزَّ  وَجَلَّاسے وہ علم بھی عطا فرمادیتا ہے جو وہ نہیں جانتا۔(1)
٭…تیسری وجہ:حق تعالیٰ کی تجلی سے محروم ہونے کی ایک وجہ دل کا مطلوبہ حقیقت کی سمت سے پھرجانا بھی ہے کہ بعض  پرہیزگاروں اورفرمانبرداروں کا دل اگرچہ صاف ہوتا ہے لیکن وہ رب تعالیٰ کے انوار وتجلیات سے روشن نہیں ہوتا کیونکہ ان کا مطلوب اور ان کی تمام ترتوجہ کا مرکز صرف ذات باری تعالیٰ نہیں ہوتی بلکہ کبھی وہ بدنی عبادات میں مصروف ہوتا ہے اور کبھی طَلَبِ معاش اسے مصروف رکھتی ہے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی معرفت حاصل کرنے اور اس کے پوشیدہ حقائق جاننے کی کوشش نہیں کرتا اسی لئے اس پر اعمال کی آفات، نفس کے پوشیدہ عُیُوب اور معاشی مسائل میں سے وہی ظاہر ہوتے ہیں جن کے بارے میں وہ غور وفکر کرتا ہے۔ 
	جب عبادات کے ساتھ دنیاوی امور میں مشغول رہنے والے پر رب تعالیٰ کے انوار وتجلیات کا ظہور نہیں ہوتا تو جو شخص دنیا وی خواہشات و لذات کی پیروی میں ہی مصروف رہے اس کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے، کیا وہ حق تعالیٰ کی تجلیات سے محروم نہیں ہوگا؟
٭…چوتھی وجہ:باری تعالیٰ کی تجلی سے محرومی کی ایک وجہ حجاب یعنی پردہ ہے کہ جو شخص خواہشات کو مغلوب رکھتا ہو، فرمانبردار ہو اور اشیاء کی حقیقتوں میں غور وفکر بھی کرتا ہو اس پر حق تعالیٰ کی تجلی منکشف نہ ہونے کی وجہ اور ان کے درمیان حائل ہونے والا پردہ اس کا برا عقیدہ ہوتا ہے جو بچپن میں اس نے اپنے بڑوں کی تقلید کرتے ہوئے اور اچھا گمان کرتے ہوئے اپنایا ہوتا ہے کیونکہ یہ عقیدہ اس کے اور تجلیِ باری تعالیٰ کے درمیان حائل ہوجاتا ہے اور اس کا دل اس عقیدے کے بَرخِلاف کوئی بات قبول نہیں کرتا۔یہ پردہ بہت وحشت ناک ہے۔
	بڑوں(یعنی جاہل آباءو اجداد ) کی تقلید میں اپنائے ہوئے یہ غلط عقائد ذہنوں میں اس قدر مضبوط اور دلوں
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…حلية الاولياء،احمدبن ابی الحواری،۱۰/ ۱۲،الحدیث:۱۴۳۲۰