Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
406 - 1245
 وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!آپ نے مجھ سے وعدہ فرمایا تھا۔ارشاد فرمایا:تم سچ کہتے ہو تم جو چاہو مانگو۔اس نے عرض کی:80 بھیڑیں اورایک چرواہا چاہتا ہوں۔ارشاد فرمايا:تمہارے لئے اسی قدر ہے اورتم نے تھوڑا مانگا ہےجبکہ حضرت موسٰیعَلَیْہِ السَّلَام کے زمانہ کی وه(بوڑھی)عورت جس نےحضرت  یُوسُف عَلَیْہِ السَّلَامکے جِسْمِ اَطْہَرکاپتا دیا تھا وہ تم سے زیادہ عقل مند اور دانا تھی۔ جب حضرت موسٰیعَلَیْہِ السَّلَام نے اس کو اختیار دیا تواس نے عرض کی: میں دوبارہ جوان ہونا اور آپ کے ساتھ جنت میں داخل ہونا چاہتی ہوں ۔(1)
	منقول ہے كہ لوگوں کو اس شخص کا مانگنا اتنا کم معلو م ہو ا کہ اس کا مانگناضربُ الْمِثَل بن گیا ،چنانچہ کہا جانے لگا: فلاں شخص80 بھیڑوں اور چرواہےوالے سے بھی زیادہ کم سوچ کا حامل ہے ۔
	رسولِ اَکرم،شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ایک شخص كسی سے وعدہ کرے اور اس کی نیت پورا کرنے کی ہو تو یہ وعدہ خلافی نہیں۔
	ایک دوسری روایت میں یہ ہے:جب کوئی شخص اپنےمسلمان بھا ئی سے وعدہ کرے حالانكہ اس کی نیت پورا کرنے کی ہوليكن(کسی سبب سے)وہ پورانہ کرے تو اس پر کو ئی گناہ نہیں۔(2)
آفت نمبر14: 	گفتگواورقسم میں جھوٹ بولنا(اس میں تین فصلیں ہیں)
پہلی فصل: 		جھوٹ سے بچنےکے متعلق 33روایات
	گفتگو اور قسم میں جھوٹ بولناقابلِ شرم گناہوں اورقابلِ نفرت عيب ہے ۔چنانچہ
﴿1﴾…حضرت سیِّدُنااَوْسط بن اسماعیل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بيان كرتے ہیں:میں نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابو بکر صدیقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کوسرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے وصالِ ظاہری کے بعدخطبہ دیتے سنا، آپ فرما رہے تھے : پچھلے سال رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہمارے درمِیان اسی طرح قیام فرما تھے جس طرح میں کھڑا ہوں ۔اتنا کہہ کر آپ رو نے لگے پھر ارشاد فرمایا:جھوٹ سے بچوکیو نکہ جھوٹ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان، کتاب الرقائق، باب الورع والتوکل،۲/ ۵۳، حدیث : ۷۲۱ بتغیر
2…سنن الترمذی، کتاب الایمان، باب ماجاء فی علامة المنافق،۴/ ۲۸۷، حدیث:۲۶۴۲