Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
405 - 1245
 میں نِفاق کی ایک عادت ہے حتّٰی کہ اسے چھوڑدے:(۱)…بات كرے تو جھوٹ بولے (۲)…وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے(۳)…عہد کرے تو عہد شکنی کرےاور(۴)…جھگڑا کرے تو گالَم گَلوچ کرے۔ (1) 
حديث كا مصداق:
	حدیث میں وعدہ خلافی کا مصداق وہ شخص ہے جس كا عَزْم یہ ہو کہ وہ وعدہ پورا نہیں کرے گا یا وہ جو بغیرکسی  عذر کے وعدہ پورا نہ کرے۔رہا وہ شخص جس کا وعدہ پورا کرنے کا عزم ہو پھر اسے کو ئی ایساعذر پیش آجائے جو اسے وعدہ پورا کرنے سے روک دے تو وہ منافق نہیں ہو گا اگر چہ یہ بھی صورتاً نفاق ہے جس سے ایسے ہی  بچنا چاہئے جیسے حقیقی نفاق سے بچا جا تا ہے اور معقول عذرکے بغیر خود کو  معذور نہیں سمجھنا چاہئے۔
ایفائے عہد کو صاحبزادی پر ترجیح دی:
	مروی ہے کہ سرکار نامدار،مدینے کے تاجدارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سیِّدُنا ابوالہَیْثَم مالك بن تیہانرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے ایک خادِم کا وعدہ فرمایاتھا(2)،آپ کے پاس تین قیدی آئے تو آپ نے دوکچھ لوگوں کوعطا کردیئےاور ایک باقی رہ گیا۔خاتونِ جنَّت حضرت سَیِّدتُنا فاطمہ زَہرارَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا حاضر ہوئیں،آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسےخادم مانگا اور عرض کی:کیاآپ میرے ہاتھوں پر چکی کے نشانات ملاحظہ نہیں فرمارہے ہیں؟آپ کوحضرت ابُوالْہَیْثَمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے کیا ہوا وعدہ یا د آگیا تو آپ فرمانے لگے: میرا ابو الہیثم سے کیا ہوا وعدہ کیسے پورا ہو گا؟چنانچہ آپ نے خاتونِ جنَّت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاپرحضرت ابوالہیثمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو ترجیح دی كيو نكہ آپ ان سے وعدہ کر چکے تھے حالانکہ حضرت خاتونِ جنَّترَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا اپنے کمزورہاتھوں  سے چکی پیستی تھیں۔ 
80بھیڑیں اور چرواہا:
	تاجدارِ رِسالتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمغزوۂ حُنَین کے موقع پر قبیلہ ہَوازِن سے حاصل شدہ مالِ غنیمت تقسیم فرمارہے تھے ۔ لوگوں میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اورعرض کی: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…سنن النسائی، کتاب الایمان و شرائعہ ، باب علامة المنافق، ص ۸۰۴، حدیث :۵۰۳۰
2…سنن الترمذی، کتاب الزھد، باب ماجاء فی معیشة اصحاب النبی،۴/ ۱۶۳،حدیث :۲۳۷۶