Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
404 - 1245
 عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے  آپ کی بعثت سے پہلے کوئی چیز خریدی جس کا کچھ بقایا رہ گیا، میں نے وعدہ کیا کہ اسی جگہ آپ کے پاس لے کر حاضر ہو تا ہوں لیکن  میں اس دن  بھول گیااور اس کے اگلے دن بھی مجھے خیال نہ آیا  پھر میں تیسرے دن آپ کے پاس آیا تو آپ اسی جگہ موجود تھے اور ارشاد فرمایا:اے نوجوان ! تم نے مجھے مشقت میں ڈال دیا میں یہاں تین دن سے تمہارا مُنْتَظِر ہوں۔ (1)
	حضرت سیِّدُناابراہیم نَخَعِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی سے پوچھا گیا:ايك شخص کسی سے مقرر ہ وقت پر آنے کا وعدہ کرے پھر نہ آئے(تو اس کا کتنی دیر انتظار کیا جا ئے؟)ارشاد فرمایا:وه آئندہ نماز کا وقت داخل ہونے تک اس کا انتظار کرے۔
	پیارے مصطفٰےصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجب کسی سے وعدہ فرماتے تو لفظ’’عَسٰی‘‘ (یعنی امید ہے) فرماتے۔
	 حضرت سیِّدُناعبداللہ بن مسعود  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  جب بھی وعدہ كرتے تواِنْ شَآءَ اللہعَزَّ  وَجَلَّفرماتے ۔
	اوریہی(یعنیاِنْ شَآءَاللہعَزَّ  وَجَلَّ کہنا) زياده مناسب ہے۔پھر اس کے ساتھ جب وعدہ میں جَزم (یعنی پختگی) سمجھ آئے تو اسے پورا کرنا ضروری ہےسوائے یہ کہ(کسی سبب سے)اسے پورا کرنا مشکل ہو۔اگر وعدے کے وقت اس بات کا عزم ہو کہ اسے پورا نہیں کرے گا تو یہ نفاق ہے ۔
منافق کی علامات:
	حضرت سیِّدُناابوہریرہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بيان كرتے ہیں کہ سرکارِابدِقرار،دوعالَم کے مالک ومختارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: تین عادتیں ایسی ہیں کہ جس شخص میں ہوں وہ منافِق ہے اگرچہ روزہ ركھے، نماز پڑھے اور یہ گمان کرے کہ وہ مسلمان ہے:(۱)…بات كرے تو جھوٹ بولے(۲)…وعدہ کرے تو پورا نہ کرےاور(۳)…امانت رکھوائی جائے تو خیانت کرے ۔(2)
	حضرت سیِّدُناعبداللہبن عمرورَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَابيان کرتے ہیں کہ حضورنبیّ کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:چا ر عادتیں جس شخص میں ہوں وہ منافق ہے اور جس میں ان میں سےکوئی ایک ہو اس
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…سنن ابی داود،کتاب الادب فی العدة،۴/ ۳۸۸، حدیث :۴۹۹۶
2…الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان، کتاب الایمان ، باب ماجاء فی الشرک والنفاق،۱/ ۲۳۷، حدیث :۲۵۷