سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:اَلْعِدَةُ عَطِیَّةٌ یعنی وعدہ كرنا عطیہ ہے۔(1)(یعنی جس طرح عطیہ دے کر واپس لینامناسب نہیں ہے اسی طرح وعدہ کرکے بھی اس کا خلا ف نہیں کرناچاہئے)
وعدہ قرض سے بھی سخت ترہے:
مصطفےٰ جانِ رحمت،شمع بزم ہدایتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: اَلْوَأْیُ مِثْلُ الدَّیْنِ اَوْاَفْضَلُ وعدہ قرض كی مثل ہے بلکہ اس سےبھی سخت تر ہے۔(2)
اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنی کتاب عزیز میں حضرت سیِّدُنااسماعیل عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی تعریف کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
اِنَّہٗ کَانَ صَادِقَ الْوَعْد (پ۱۶،مریم:۵۴)
ترجمۂ کنز الایمان:بے شک وہ وعدے کا سچا تھا ۔
22دن تک منتظر رہے:
منقول ہے کہ حضرت سیِّدُنااسماعیلذَبِیْحُاللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے کسی شخص سے ایک جگہ کا وعدہ فرمایاتو وہ شخص وہاں نہیں آیابلکہ بھول گیا توآپ بائیس دن تك اس جگہ پراس کے انتظار میں ٹھہرے رہے۔
بیٹی کا نکاح کردیا:
حضرت سیِّدُناعبداللہ بن عمرو بن عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکی وفات کا وقت جب قریب آیا تو ارشاد فرمایا: ایک قریشی شخص نے مجھ سے میری بیٹی کا ہاتھ مانگا تھااور میں نے اس سےمُبْہَم سا وعدہ کیا تھا ۔بخدا !میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے نِفاق کی تیسری علامت کے سا تھ ملاقات نہیں کرنا چاہتا ،میں تم سب کو گواہ بنا تا ہوں کہ میں نے اپنی بیٹی کانکاح اس شخص سے کردیا۔
تین دن تک انتظار کرتے رہے:
حضرت سیِّدُناعبداللہ بن ابوالحَمْسَاءرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں:میں نے حضورنبیّ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…موسوعة الامام ابن ابی الدنیا، کتاب الصمت ،۷/ ۲۶۷،حدیث :۴۵۶
2…موسوعة الامام ابن ابی الدنیا، کتاب الصمت ،۷/ ۲۶۸،حدیث :۴۵۷