آپ نے یہ بات(ادھر ادھر دیکھنے کی قید کے بغیر)مطلقا ًبھی ارشاد فرمائی ہے ۔چنانچہ رسولِ اَکرم،شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشاد فرمایا:تمہاری باہمی گفتگو اَمانت ہے۔ (1)
حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں:تمہارا اپنے بھائی کےرازکو بیان کرنا بھی خیانت سے ہے۔
خطا کی غلامی سےآزاد کر دیا:
مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناامیرمُعاوِیہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے(اپنے بھتیجے)حضرت ولید بن عُتْبَہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے کوئی راز کی بات کہی تو انہوں نے اپنے والد سے کہا:اے میرے والد!امیرالمؤمنین نے مجھ سے ایک راز کی بات کہی ہے اور میرا نہیں خیال کہ جو بات انہوں نے آپ کے علاوہ کسی دوسرے پر ظاہر کر دی،وہ آپ سے چھپائیں ۔والد صاحب نے ارشاد فرمایا:مجھ سے وہ بات بیان نہ کرنا کیو نکہ جو اپنے راز کو چھپاتا ہے اختیار اس کے ہاتھ میں رہتا ہے اور جو ظاہر کر دیتا ہے اس کا اختیار دوسرے کے ہاتھ میں چلا جا تا ہے ۔ حضرت ولید رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:میں نے عرض کی :اے میرے والد !کیا باپ اوربیٹے کے درمیان بھی یہی معاملہ ہے؟ فرمایا:اے میرےبیٹے !اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم ! نہیں۔لیکن مجھے یہ پسند ہے کہ تم راز کو ظاہر کرکے اپنی زبان کو بے وُقْعَت نہ کرو ۔ ولید کہتے ہیں:میں حضرت سیِّدُناامیر معاویہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس آیا اور ان کو تمام بات بتائی تو آپ نے ارشادفرمایا:تمہارے والد نے تمہیں خطا کی غلامی سےآزاد کر دیا ۔
تو راز فاش كرنا خيانت ہے اور جب اس میں ایذا رسانی ہوتوحرام ہے اگرایذا رسانی نہ ہو تو کمینگی ہے۔ہم راز چھپانے کے متعلق ہم نشینی کے آداب میں کلام کر چکےہیں،لہٰذا دوبارہ ذکر کر نے کی حاجت نہیں۔
آفت نمبر13: جھوٹاوعدہ
بے شک زبان وعدہ کرنے میں بہت زیادہ سبقت کرتی ہے پھر بعض اوقات نفس اس کو پورانہیں کرتا تویوں وعدہ خلافی ہوجاتی ہےاوریہ نِفاق کی علامات میں سےہے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَوْفُوۡا بِالْعُقُوۡدِ ۬ؕ (پ۶،المآئدہ:۱)
ترجمۂ کنز الایمان:اے ایمان والو اپنے قول(عہد) پورے کرو۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…موسوعة الامام ابن ابی الدنیا، کتاب الصمت ،۷/ ۲۴۴،حدیث :۴۰۶