Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
401 - 1245
عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:جو اپنے بھائی کو کسی ایسے گناہ پر عار دلائے جس سے وہ تو بہ کر چکا ہو تو وہ اس میں مبتلا ہو ئے بغیر نہیں مرے گا۔(1)
	یہ سب باتیں جو بیان ہوئیں ان میں دوسرے کو حقیر جاننا ،اس پر ہنسنا، اسے ہلکا اور کمتر سمجھنا پایا جاتا ہے اور اللہ  عَزَّ  وَجَلَّ کے اس فرمان میں اسی پر تنبیہ کی گئی ہے:
 عَسٰۤی اَنۡ یَّکُوۡنُوۡا خَیۡرًا مِّنْہُمْ (پ۲۶،الحجرات:۱۱)
ترجمۂ کنز الایمان: عجب نہیں کہ وہ ان ہنسنے والوں سے بہتر ہوں۔
	یعنی کسی کو چھوٹا سمجھتے ہوئے حقیر نہ جا نو ہو سکتا ہے کہ وہ تم سے بہتر ہو۔
جو مذاق كئے جانے سے خوش ہوتا ہو تو....!
	مذاق صرف اس شخص كے حق میں حرام ہے جسے اس سے اَذِیَّت پہنچے البتہ جو خود کو مذاق کا محل بنا لےاور اس بات سے خوش  ہوتاہو کہ اس سے مذاق کیا جا ئے  تو اس سے مذاق کرنامِزاح(یعنی خوش طبعی) میں شمار ہو گااور کون سا مزاح مذموم اور کون سا قابل تعریف ہےاس کا بیان گزر چکا،لہٰذا مذاق حرام اس صورت میں ہوگا جب دوسرے کو حقیر سمجھتےہوئے اس کا مذاق اڑایا جائےجس کے سبب اسے تکلیف ہو کیو نکہ ایسی صورت میں اس کی تحقیر وتذلیل لازم آتی ہے۔مثلاً:کسی کے بے ترتیب کلام یا اس کے بے تکے افعال پر ہنسنا،کسی  کی تحریریااس کےپیشے پر ہنسنا یا کسی  کی صورت اورخِلْقَت پر ہنسنا جب وہ پستہ قد یا کسی عیب(یعنی آنکھ کی کمزوری یا لنگڑا وغیرہ ہونے)کے سبب ناقص ہوتو ان تمام با توں پر ہنسنا ممنوع مذاق میں داخل ہے۔
آفت نمبر12:				رازفاش کرنا
	اس سے منع کیا گیا ہےکیونکہ اس میں ایذا رسانی  اوراپنوں اور دوستوں کے حق کو معمولی سمجھنا ہے ۔
گفتگو امانت ہے:
	محبوب ربِّ داور،شفیعِ روزِ محشر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: جب کوئی شخص بات کرکے اِدھراُدھر دیکھے تو وہ بات اَمانت ہے ۔(2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…سنن الترمذی، کتاب التفسیر،سورهٔ والشمس وضحاھا،۵/ ۲۲۶، حدیث : ۲۵۱۳
2… سنن الترمذی، کتاب البروالصلة، باب ماجاء ان المجالس امانة ،۳/ ۳۸۶، حدیث:۱۹۶۶