لوگوں پر ہنسنا گناہ میں داخل ہے:
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
یٰوَیۡلَتَنَا مَالِ ہٰذَا الْکِتٰبِ لَایُغَادِرُ صَغِیۡرَۃً وَّلَاکَبِیۡرَۃً اِلَّاۤ اَحْصٰىہَا ۚ (پ۱۵،الکھف:۴۹)
ترجمۂ کنز الایمان: ہائے خرابی ہماری اس نَوِشْتہ(تحریر) کو کیا ہوا نہ اس نے کوئی چھوٹا گناہ چھوڑا نہ بڑا جسے گھیر نہ لیا ہو۔
حضرت سیِّدُناعبداللہبن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَااس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:یہاں چھوٹے گناہ سے مراد کسی مومن کے ساتھ مذاق کرکےمسکراناہےاور بڑے گناہ سے مراد اس پر قَہْقَہَہ لگانا ہے ۔
یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ لوگوں پر ہنسنا گناہ میں داخل ہے۔
ریح خارج ہونے پر ہنسنا:
حضرت سیِّدُناعبداللہ بن زَمْعہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بيان كرتے ہیں کہ میں نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو خطبہ دیتے ہو ئے سنا ، آپ لوگوں کو گوز (یعنی آواز کے ساتھ ریح خارج ہونے)پر ہنسنے کے بارے میں نصیحت کرتے ہوئے فرمارہے تھے:تم میں سے کو ئی شخص اس بات پر کیوں ہنستا ہے جسے وہ خود کرتا ہے۔ (1)
مذاق کرنے والےکا انجام:
حُسنِ اَخلاق کے پیکر، مَحبوبِ رَبِّ اَکبرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:لوگوں کے ساتھ ہنسی مذاق کرنے والوں میں سےایک کےلئے جنت کا دروازہ کھولا جا ئے گا اور اس سے کہا جا ئے گا:آجاؤ!آجاؤ!وہ دکھ درد میں مبتلا آئے گا،جب دروازے کے پاس پہنچے گاتو وہ بند کر دیا جا ئے گا پھر اس کے لیے دوسرا دروازہ کھولا جا ئے گا اور کہا جا ئے گا:آجاؤ!آجاؤ!وہ تکلیف اورغم کی حالت میں آئے گا جب دروازے کے پاس پہنچے گا تو اسے بندکر دیا جائے گا اسی طرح ہو تا رہے گا یہاں تک کہ اس کے لئے جنت کا دروازہ کھولا جا ئے گا اور کہا جا ئے گا:آؤ!آؤ!لیکن وہ(مایوس ہونے کےسبب)نہیں آئے گا۔(2)
حضرت سیِّدُنامُعاذ بن جَبَلرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں : شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… مسلم،کتاب الجنة وصفةنعیمھا،باب الناریدخلوھاالجبارون…الخ،۳/ ۳۷۸، حدیث : ۴۹۴۲
2…موسوعة الامام ابن ابی الدنیا، کتاب الصمت،۷/ ۱۸۴، حدیث : ۲۸۷