کو بغیر پالش وغیرہ کے بطور آئینہ استعمال کیا جائے۔(۲)…لوہا اگرچہ پالش وغیرہ کرلیا جائے لیکن وہ خود بےحد خراب ہو۔(۳)…شے خود آئینہ کے پیچھے ہو۔(۴)…آئینہ اور اس کے سامنے موجود شے کے درمیان پردہ حائل ہو۔(۵)مطلوبہ شے کی سمت معلوم نہ ہوکہ اس کی طرف آئینہ کو پھیرا جائے۔
دل چونکہ آئینہ کی مثل ہے، اسے اس لئے پیدا کیا گیا ہے کہ تمام امور اس پر حق تعالیٰ کی تجلی سے روشن ہوجائیں۔ یہی وجہ ہے کہ آئینہ کی طرح دل بھی پانچ وجوہات کی بنا پر تمام امور میں حق تعالیٰ کی تجلی سے محروم رہتا ہے اور اس محرومی کے سبب اسے اشیاء کی حقیقتوں کا علم حاصل نہیں ہوتا۔
حق تعالیٰ کی تَجَلِّی سے دل کی محرومی کی پانچ وُجُوہات:
٭…پہلی وجہ:اس تجلی سے محرومی کا ایک سبَب خود دل میں کمی ہونا ہے۔ جیسے بچے کا دل، اسی کمی کی وجہ سے بچے پر اشیاء کی حقیقتیں واضح نہیں ہوتیں۔
٭…دوسری وجہ:گناہوں اور خواہشات کی کثرت کے سبب دل پر جو گندگی اور خباثت جمع ہوجاتی ہے اس کی وجہ سے بھی دل حق تعالیٰ کی تجلی سے محروم کردیا جاتا ہے کہ گناہوں کی کثرت دل کی طہارت ونورانیت زائل کردیتی ہے اور اس گندگی و تاریکی کے سبب دل پر حق ظاہر نہیں کیا جاتا۔اس حدیثِ مبارکہ میں اسی جانب اشارہ ہے۔چنانچہ مروی ہے کہرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:”مَنْ قَارَفَ ذَنْبًا فَارَقَہٗ عَقْلٌ لَّایَعُوْدُ اِلَیْہِ اَبَدًا یعنی جو شخص گناہ کرتا رہتاہے اس کی عقل زائل ہوجاتی ہے پھر کبھی واپس نہیں آتی۔“(1)
اس حدیثِ پاک سے مراد یہ ہے کہ گناہوں کا میل جس دل میں داخل ہوجائے اس دل سے اس کا اثر زائل نہیں ہوتا اگرچہ گناہ کے بعد نیکی کرنے سے اس گناہ کو مٹا دیا جاتا ہے کیونکہ جس دل نے گنا ہ نہ کیا ہو جب وہ نیکی کرتا ہے تو یقیناً اس کی نورانیت میں اضافہ ہوجاتا ہے لیکن جس دل نے گناہ کیا ہو اس کے نیکی کرنے پر اس کا گناہ مٹایا جاتا ہے اسے یہ فائدہ حاصل نہیں ہوتا کہ اس کے نور میں اضافہ کیا جائے۔ یہ بہت بڑا نقصان ہے اور ایسا نقصان ہے جس کا کوئی بدل نہیں۔ کیونکہ جو آئینہ گندا ہونے کے بعد صاف کیا جائے وہ کبھی اس آئینہ کی طرح نہیں ہوتا جو گندا بھی نہ ہوا ہو لیکن چمکانے کے لئے اسے صاف کیا جائے۔ معلوم ہوا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تذکرة الموضوعات،باب اٰفة الذنب والرضابه...الخ،ص۱۶۹