صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!میرے پاس پیسے نہیں تھے اور مجھے یہ پسند تھا کہ آپ اس میں سے تناول فرمائیں تو آپ مسکرا دیتے اورچیز کے مالک کو پیسے دینے کا حکم فرماتے۔ (1)
تو اس قسم كی خوش طبعی کبھی کبھا ر مُباح ہےاور اس پر ہمیشگی مذموم دل لگی ہےجو دل کو مردہ کردینے والی ہنسی کا سبب ہے ۔
آفت نمبر11: مَذاق مَسْخَرِی
یہ بھی حرام ہے جبکہ اس سے تکلیف پہنچے جیسا كہاللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا یَسْخَرْ قَوۡمٌ مِّنۡ قَوْمٍ عَسٰۤی اَنۡ یَّکُوۡنُوۡا خَیۡرًا مِّنْہُمْ وَلَا نِسَآءٌ مِّنۡ نِّسَآءٍ عَسٰۤی اَنۡ یَّکُنَّ خَیۡرًا مِّنْہُنَّ ۚ (پ۲۶،الحجرات:۱۱)
ترجمۂ کنز الایمان: اے ایمان والو نہ مرد مردوں سے ہنسیں عجب نہیں کہ وہ ان ہنسنے والوں سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں عورتوں سے، دور نہیں کہ وہ ان ہنسنے والیوں سے بہتر ہوں۔
مذاق كی تعریف:
مذاق کا مطلب ہے: دوسرے کو حقیر اور کمتر سمجھتے ہوئے اس کے عُیُوب ونَقائص کو اس طور پرذکر کرنا جس سے ہنسی آئے اور یہ کبھی قول وفعل کی نقل اتارنے کے ذریعے ہو تا ہے اور کبھی اشارے کےساتھ۔جس کا مذاق اڑایا جارہا ہے اگر وہ موجود ہو تو اِسے غیبت کا نام تو نہیں دیں گے لیکن اس میں غیبت کا معنیٰ پایا جا تا ہے۔
کثیر دنیا مل جائےپھر بھی نقل اتارنا پسند نہیں:
اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں:میں نے کسی کی نقل اتاری تو سرکار ِ مدینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھ سے ارشاد فرمایا:بخدا !مجھے یہ پسند نہیں کہ میں کسی کی نقل اتاروں اور مجھے اس کے سبب کثیر دنیا مل جائے۔(2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الاصابةفی تمییز الصحابة، حرف النون، الرقم: ۸۸۱۱،النعیمان بن عمرو،۶/ ۳۶۶
2…سنن ابی داود، کتاب الادب ، باب فی الغیبة ،۴/ ۳۵۳، حدیث :۴۸۷۵