Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
398 - 1245
سے بھا گ جا تا اور مدینہ میں آنے کے بعد ایک دن آپ نے مجھے مسجد میں نماز پڑھتے ہو ئے  دیکھا تو میرے پاس بیٹھ گئے میں نے نماز کو طویل کردیا ۔ارشاد فرمایا:طویل نہ کرو ہم تمہارے منتظر ہیں ۔جب میں نے سلام پھیراتو ارشاد فرمایا:اے ابو عبداللہ!کیا ابھی تک اس اونٹ نے سرکشی نہیں چھوڑی؟میں شرم کے سبب خاموش رہا، آپ اٹھ کھڑے ہو ئےاور اس کے بعدمیں(حَسْبِ سابِق)آپ سےبھاگتا رہاحتّٰی کہ آپ مجھ سے اس حال میں ملے کہ آپ دراز گوش پر سوار تھے اور آپ نے دونوں پاؤں ایک طرف کئے ہو ئے تھے اور ارشاد فرمایا :اے ابو عبداللہ!کیا ابھی تک اس اونٹ نے سرکشی نہیں چھوڑی؟میں نے عرض کی :اس ذات کی قسم !جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے جب سے میں اسلام لایا ہوں اونٹ نے سر کشی نہیں کی ۔آپ نے ارشادفرمایا:اَللہُاَکْبَر،اَللہُاَکْبَراوردعادی:اےاللہ عَزَّ  وَجَلَّ!ابوعبداللہ!کوہدایت عطافرما۔(1)راوی فرماتے ہیں:چنانچہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نےانہیں حُسْنِ اِسلام  اورہدایت سے نوازا۔ 
ایک انصاری اور محبت رسول :
	ایک اَنصاری بہت مِزاح فرماتےاور مدینہ مُنَورَہ میں شراب نوشی کرلیا کرتے تھے جس کی وجہ سے انہیں  بارگاہ رسالت میں لایا جاتاتو آپ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم انہیں اپنی نعل پاک سے مارتے اور صحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو بھی حکم دیتے کہ وہ اپنے جوتوں سے انہیں ماریں۔ جب ان کی شراب نو شی کی عادت بڑھ گئی تو ایک صحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنےانہیں کہا:تجھ پر اللہ  عَزَّ  وَجَلَّ کی لعنت ہو۔حضورنبیّ پاک  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےسنا تو ارشاد فرمایا: ایسا نہ کہو کیو نکہ یہ اللہ  عَزَّ  وَجَلَّ  اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے۔
	مدینے میں جب کوئی عمدہ چیز آتی تویہی انصاری اس میں سے کچھ خرید کرآپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں پیش کردیتے اور عرض کرتے: یارسولَ اللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!یہ میں نے آپ کے لئے خریدی ہےاور اسے آپ کی خدمت میں تحفے کےطور پر پیش کرتا ہوں۔جب بیچنے والا پیسے مانگتا تو یہ  انصاری اسے بارگا ہِ رسالت  میں لے کر آتے اور عرض کرتے: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!اسے اپنے سامان کی قیمت عطا کر دیجئے۔آپ فرماتے: کیا تم نے ہمیں یہ چیزتحفے میں نہیں دی؟ تو عرض کرتے:یارسولَ اللہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المعجم الکبیر،۴/ ۲۰۳، حدیث :۴۱۴۶  بتغیر