سیِّدُنا امامِ حَسَنرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے لئے زبان مبارک باہر نکال رہے تھے اور وہ خوش ہو کر آپ کی طرف لپک رہے تھے توحضرت سیِّدُناعُیَیْنَہ بن مِحْصَنرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے کہا: میرابیٹا ہوا اس کی شادی ہو گئی اور اس کے داڑھی بھی نکل آئی لیکن میں نے اسےکبھی نہیں چوما۔ تو آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جا تا۔ (1)
حضورنبیّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اکثرخوش طبعیاں عورتوں اور بچوں کے ساتھ منقول ہیں۔ جس کی وجہ ان کے دلوں کی کمزوری کودورکرنا تھا محض دل لگی مقصود نہ تھی۔
آنکھ کا درد اور کھجور کھانا؟
حضرت سیِّدُناصُہَیْببن سِنانرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی آنکھ دکھ رہی تھی اوروه کھجوركھارہے تھےتو حُسنِ اَخلاق کے پیکر،محبوبِ ربِّ اکبرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:تمہاری آنکھ دکھ رہی ہے اورتم کھجور کھارہے ہو؟عر ض کی:یارسولَاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!میں دوسری طرف سےکھارہا ہوں۔ یہ سن کرآپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمان کے جواب پرمسکرادئیے ۔ راوی فرماتے ہیں: اتنا مسکرا ئے کہ میں نےآپ کی مبارک داڑھوں کو دیکھ لیا۔(2)
سركش اونٹ:
مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا خَوَّات بن جُبیر انصاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ مکہ مکرَّمہ کے راستے میں بنی کَعب کی عورتوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے كہ حضورنبیّ اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا وہاں سے گزر ہواتو ارشاد فرمایا:اے ابو عبداللہ!تمہیں عورتوں سے کیا کام ہے؟انہوں نے عرض کی :یہ میرے سرکش اونٹ کے لئے رسی کو بل دے کر مضبوط کر رہی ہیں۔راوی فرماتے ہیں:آپ اپنی حاجت کے لئے تشریف لے گئے، جب واپس تشریف لا ئے تو ارشاد فرمایا: اےابو عبداللہ!کیا ابھی تک اس اونٹ نے سرکشی نہیں چھوڑی؟فرماتے ہیں:میں شرم کے مارےخاموش رہا ،اس کے بعد میں جب بھی آپ کو دیکھتا تو شرم کی وجہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المسندلابی یعلی، مسند ابی ہریرہ رضی اللّٰہ عنہ،۵/ ۲۴۲، حدیث : ۵۸۶۶ بتغیر
2…سنن ابن ماجہ، کتاب الطب، باب الحمیة،۴/ ۹۱، حدیث :۳۴۴۳