Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
396 - 1245
تھوڑاساكھانا چہرے پر مل دیا:
	اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُناعائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں:سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میرے ہاں تشریف فرما تھے اورحضرت سَودہ بنْتِ زَمْعہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَابھی موجود تھیں۔ میں خزیرہ (آٹے اور گوشت سے تیار ایک قسم کا کھانا) بنا کر لا ئی اور حضرت سَودہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے کہا:کھا ئیں، انہوں نے کہا:مجھے یہ پسند نہیں ہے۔میں نے کہا:بخدا!کھاؤ ورنہ میں  اسے تمہارے چہرے پرمَل  دوں گی۔انہوں نے کہا:میں اسے نہیں چکھوں گی،لہٰذا میں نے پلیٹ سےتھوڑا سا لے کر ان کے چہرے پر مل دیا حُضورِ انورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہمارے درمیان تشریف فرما تھے،آپ نے اپنے گھٹنوں کو نیچے کرلیا تاکہ وہ بھی مجھ سےبدلہ لے سکیں۔چنانچہ انہوں نے بھی پلیٹ میں سے لیا اور میرے چہرے پر مل دیا۔یہ دیکھ کرآپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممسکرانے لگے۔(1)
سرکار صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّممسکرا دیئے:
	مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناضَحاک بن سُفْیان کِلابیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ پست قدتھے اورشکل وصورت بھی خوبصورت  نہ تھی۔جب حضورنبیّ کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں بیعت فرمایا تو انہوں نے عرض کی:میری دو بیویاں ہیں جو اس حُمَیراء(یعنی حضرت عائشہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا )سے بہتر ہیں۔ کیا میں ان میں سے ایک کوطلاق نہ دے دوں تا کہ آپ اس سے نکاح  کرلیں؟یہ واقعہ چونکہ پردے کاحکم  نازل ہو نے سے پہلے کا تھا،لہٰذااُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاساتھ ہی بیٹھیں یہ گفتگو سن رہی تھیں آپ نے پو چھا:وہ زیادہ  خوبصورت ہیں  یا تم؟انہوں نے کہا :میں ان سے کہیں زیادہ حسین وجمیل ہوں ۔ سیِّدَہ عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکے اس سوال پرآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممسكرادئیے۔(2)
بچے پر شفقت:
	حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ سرکارِمدینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمحضرت 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المسند لابی یعلی، مسند عائشة رضی اللّٰہ  عنھا،۴/ ۸۸، حدیث : ۴۴۵۹
2…رواہ الزبیر بن بکار فی کتاب الفکاھة والمزح ( اتحاف السادةالمتقین،۹/ ۲۲۸)