فرمایا: ہر اونٹ، اونٹ ہی کاتو بچہ ہو تا ہے۔ (1)
نُغَیْرکاکیا حال ہے؟
حضرت سیِّدُنا اَنَسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں: حضرت سیِّدُناابوطَلْحَہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ایک بیٹے تھے جنہیں ابوعُمَیْرکہا جا تا تھا،حضورنبیّ پاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمان کے گھر تشریف لے جاتے اور ( بچے کے ساتھ مزاح کرتے ہوئے)فرماتے:یَا اَبَا عُمَیْرمَا فَعَلَ النُّغَیْریعنی اے ابوعُمَیْر!نُغَیْر کا کیا حال ہے؟(2)نُغَیْرچڑیا کا بچہ تھا جس سے ابوعُمَیْر کھیلا کرتےتھے۔
دوڑ كا مقابلہ:
اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں: میں غزوۂ بَدْر میں سرکارِ نامدارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ گئی، آپ نے ارشاد فرمایا:آؤ میں تم سے دوڑ کا مقابلہ کرتا ہوں، چنانچہ میں نے اپنا دوپٹہ مضبوطی سے اپنے پیٹ پر با ندھ لیا پھر ہم نے ایک لکیر کھینچی، اس پر کھڑے ہوئے اور دوڑلگادی تو آپ مجھ سے آگے نکل گئے،آپ نے فرمایا:یہ ذُوالْمَجاز کا بدلہ ہے ۔(3) (ام المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں) ذُوالْمَجاز کا واقعہ کچھ یوں ہے کہ ایک دن آپ تشریف لا ئے اور ہم مقام ذو المجاز میں تھے، میں اس وقت کم سن تھی اور میرے والد نے مجھے کو ئی چیز بھیجی تھی، آپ نے ارشاد فرمایا: یہ مجھے دے دو، میں نے انکار کیا اور دوڑ پڑی ،آپ بھی میرے پیچھے دوڑے لیکن مجھے پکڑ نہیں سکے۔
آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا مزید فرماتی ہیں:حضورنبیّ کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھ سے دوڑ کا مقابلہ کیا تو میں آپ سے نکل گئی پھر جب میں فَربہ ہو گئی اور آپ نے مجھ سے دوڑ کا مقابلہ کیا تو آپ جیت گئےاور ارشاد فرمایا: یہ اس کا بدلہ ہے ۔ (4)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…سنن ابی داود، کتاب الادب، باب ماجاء فی المزاح ،۴/ ۳۸۹،حدیث :۴۹۹۸ بتغیر
سبل الھدی والرشاد، جماع ابواب صفاتہ المعنویة ، الباب الثانی والعشرون فی مزاحہ ،۷/ ۱۱۴
2…الشمائل المحمدیة للترمذی، باب ماجاء فی صفة مزاح رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم، ص ۱۴۱، حدیث :۲۲۶
3…المنتخب من کتاب ازواج النبی ، قصة تزوج عائشة رضی اللّٰہ عنھا، ص ۹
4…سنن ابی داود، کتاب الجہاد ،باب فی السبق علی الرجل،۳/ ۴۲، حدیث :۷۸