مروی ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبہت زیادہ تَبَسُّم فرماتے تھے۔(1)
جنت میں کو ئی بڑھیا داخل نہیں ہو گی:
حضرت سیِّدُناحسن بصر ی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی بيان كرتے ہیں: ایک بو ڑھی عورت بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئی، آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس سے فرمایا:”جنت میں کو ئی بو ڑھی داخل نہیں ہو گی۔“یہ سن کر وہ رونے لگی تو آپ نے ارشاد فرمایا:”تم اس دن بو ڑھی نہیں ہو گی۔(2)اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
اِنَّاۤ اَنۡشَاۡنٰہُنَّ اِنۡشَآءً ﴿ۙ۳۵﴾ فَجَعَلْنٰہُنَّ اَبْکَارًا﴿ۙ۳۶﴾ (پ۲۷،الواقعة:۳۶،۳۵)
ترجمۂ کنز الایمان: بیشک ہم نے ان عورتوں کو اچھی اٹھان اٹھایا تو انہیں بنایا کواریاں اپنے شوہر پر پیاریاں۔
آنکھ کی سفیدی:
حضرت سیِّدُنازید بن اسلم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم بيان كرتے ہیں:حضرت سیّدتُنااُمّ اَیمن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا بارگاہِ رسالت میں حاضرہوئیں اورعرض کی کہ میرے خاوندآپ کو بلاتے ہیں۔ارشاد فرمايا :كون ؟ وہی جس کی آنکھ میں سفیدی ہے؟ انہوں نے عرض کی:اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم !ان کی آنکھ میں کو ئی سفیدی نہیں ہے۔ارشاد فرمایا:ہاں۔اس کی آنکھ میں سفیدی ہے۔انہوں نے عرض کی:اللہ عَزَّوَجَلَّکی قسم !ان کی آنکھ میں کو ئی سفیدی نہیں ہے ۔ ارشاد فرمایا:کوئی بھی ایسا نہیں ہے جس کی آنکھ میں سفیدی نہ ہو۔(3)
اس سے آپ کی مراد وہ سفیدی تھی جوآنکھ کے سیاہ حلقے کو گھیرے ہوتی ہے۔
اونٹ کا بچہ:
مروی ہے کہ ایک عورت بارگاہ رسالت میں حاضرہوئی اورعرض کی: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!مجھے سواری کیلئے اونٹ عطا فرمائیں؟ ارشادفرمایا: ہم تمہیں اونٹ کے بچے پر سوار کریں گے۔ اس نے عرض کی: میں اس کا کیا کروں گی وہ تو مجھے نہیں اٹھا سکے گا،تو آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الشمائل المحمدیة للترمذی، باب ماجاء فی ضحک رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم، ص ۱۳۶،حدیث : ۲۱۷
2… الشمائل المحمدية للترمذی،باب ماجاء فی فی صفة مزاح رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ عليه وسلم،ص۱۴۳،حديث:۲۳۰
3…سبل الھدی والرشاد، جماع ابواب صفاتہ المعنویة ، الباب الثانی والعشرون فی مزاحہ،۷/ ۱۱۴