مزاح میں حد سے نہ بڑھو اور کبھی کبھار کروتو تم پر اس میں کو ئی گناہ نہیں ۔لیکن یہ بہت بڑی غَلَطی ہے کہ کوئی شخص مزاح کو پیشہ بنا لے، اس میں ہمیشگی اختیار کرے اور مزاح كرنےمیں حد سے بڑھ جائے پھر رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے مبارک فعل سےدلیل پکڑے۔ اس کی مثال اس شخص کی سی ہے جو دن بھر حبشیوں کے ساتھ رہے ،انہیں اور ان کے رقص کو دیکھتا رہے اور اس بات سے دلیل پکڑے کہ رسولِ اَکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بھی اُمّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکو عید کے دن حبشیوں کا رقص دیکھنے کی اجازت عطافرمائی۔(1)حالانکہ یہ خطاہےكيو نكہ بعض صغیرہ گناہ اِصرار سے کبیرہ ہوجاتے ہیں اور بعض مُباح کام اِصرار سے صغیرہ گناہ بن جا تے ہیں،لہٰذا اس سے غافل نہیں رہنا چاہئے۔
سرکارِمدینہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا مزاح:
حضرت سیِّدُناابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ صحابۂ کِرامرِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن نے عرض کی: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!آپ ہم سےمزاح فرماتے ہیں؟ارشادفرمایا: میں اگر چہ تم سے مزاح کرتا ہوں لیکن حق بات کے سوا کچھ نہیں کہتا ۔ (2)
حضرت سیِّدُناعطاء بن ابی رَباح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بيان كرتے ہیں :ایک شخص نے حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے پو چھاكیا رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممزاح فرماتے تھے؟ ارشاد فرمایا: ہاں۔اس نے پوچھا:آپ کا مزاح کیسا ہو تا تھا؟فرمایا:آپ کا مزاح اس طرح ہوتاتھا کہ ایک دن آپ نے ایک زوجہ مُطَہَّرہ کو ایک بڑا کپڑا عطا کیااور ارشاد فرمایا: اسے پہن لو اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا شکر ادا کرو اور اس کے دامن کو دُلْہَن کے دامن کی طرح گھسیٹو۔ (3)
حضرت سیِّدُنااَنَسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں:حضورنبیّ اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّملوگوں میں سب سے بڑھ کر اپنی ازواج کے ساتھ خوش طبع تھے۔ (4)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… مسلم کتاب صلاة العیدین، باب الرخصة فی اللعب...الخ ، ص ۴۴۲، حدیث :۸۹۲
2…سنن الترمذی، کتاب البروالصلة، باب ماجاء فی المزاح ،۳/ ۳۹۹،حدیث : ۱۹۹۷
3…تاریخ مدینة دمشق، السیرة النبویة، باب ماحفظ من مزاجہ ...الخ ،۴/ ۴۱ ،حدیث : ۸۴۹
4…فیض القدیر،۵/ ۲۲۹، تحت الحدیث :۶۸۶۵…… تاریخ مدینہ دمشق، باب ماحفظ من مزاجہ ...الخ ،۴/ ۳۷