Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
392 - 1245
بچوں سے مزاح نہ کرو:
	حضرت سیِّدُنامحمدبن مُنکَدِر عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَحَد فرماتے ہیں:میری والِدہ مُحْتَرمہ نے مجھ سے فرمایا: اے میرے بیٹے!بچوں سے مِزاح نہ کرنا،ورنہ ان کی نظروں میں تمہاری عزت کم ہو جا ئے گی ۔
مزاح کینہ پیدا کرتا ہے:
	حضرت سیِّدُناسعید بن عاصرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ   نے اپنے بیٹے سے فرمایا:بیٹاکسی شریف سےمزاح نہ کرنا کہ تمہارے خلاف اس کے دل میں کینہ پیدا ہوجائے گااور نہ کسی گھٹیا آدمی سے مزاح کرنا کہ وہ تم پر جرأت کرے گا۔
	امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعمر بن العزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز فرماتے ہیں:اللہ عَزَّ  وَجَلَّسے ڈرو اورمزاح  کرنے سے بچو کیونکہ اس سے کینہ پیدا ہوتا ہےنیز یہ بد کلامی کی طرف لے جا تا ہے، قرآنِ کریم کے فرامین بیان کرو اور اس کے لئے مجلس منعقد کرواگراکتا جاؤ تونیک لوگوں کا تذکرہ کیا کرو۔
مِزاح کو مِزاح کہنے کی وجہ: 
	امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعمر فاروق اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشادفرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ مزاح کا نام مزاح کیوں رکھا گیا ہے؟ لوگوں نے عرض کی:نہیں۔ارشاد فرمایا: مزاح کو مزاح اس لئےکہتے ہیں کہ یہ مزاح کرنے والے کو حق سے دور کر دیتا ہے(کیونکہ مزاح زَوْحٌ سے بنا ہے اور زَوْحٌ کا معنی ہےدور کرنا ، الگ کرنا)۔ کہا جاتا ہے کہ ہر چیز کا بیج ہو تا ہے اور عداوت و دشمنی کا بیج مزاح ہے اوریہ بھی کہا گیاہے کہ مزاح عقل کو چھین لیتا اور دوستوں کو جدا کر دیتا ہے ۔
مزاح كے جائز ہو نے کی شرطیں:
	سوال:اگر تم کہو کہ حُضورنبیّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے تو مزاح منقول ہے تویہ ممنوع کیسے ہوسکتا ہے؟
	جواب:میں کہتا ہوں اگرتمہیں اس بات پر قدرت ہو جس پر  نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور صحابۂ کِرامرِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن قادر تھےکہ تم مزاح میں صرف حق بات کہو، کسی کے دل کو اذیت نہ پہنچاؤ،