روتےہوئے جہنم میں داخلہ:
حضرت سیِّدُناابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں: جو ہنستا ہوا گناہ کرتا ہے وہ روتا ہوا جہنم میں داخل ہو گا۔
حضرت سیِّدُنامحمد بن واسع عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ النَّافِعفرماتے ہیں:جب تم جنت میں کسی کو روتا ہوا دیکھوگے تو کیا تمہیں اس کے رونے سے تَعَجُّب نہیں ہو گا؟عرض کی گئی: ضرور ہو گا۔ ارشاد فرمایا:تو جودنیا میں ہنستا ہے لیکن اسے یہ معلوم نہ ہو کہ اس کا ٹھکانا کیا ہے تو اس شخص پر اس سے بھی زیادہ تعجب ہے۔
مذموم اور محمود ہنسی:
یہ گفتگو ہنسنے کی آفت کے متعلِّق تھی اور ہنسنے کی مذموم صورت یہ ہے کہ انسان ہنستا ہی رہے اور قابل تعریف صورت تَبَسُّم ہے کہ جس میں دانت ظاہر ہوتے ہیں اور آواز نہیں سنائی دیتی اوررسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ہنسنا بھی ایسا ہی تھا(یعنی آپ تبسم فرماتے)۔ (1)
سرکش اونٹنی:
حضرت سیِّدُناامیرمُعاوِیہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے غلام حضر ت سیِّدُناقاسمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں: ایک اعرابی سرکش اونٹنی پر سوار ہو کربارگاہِ رسالت میں حاضر ہوا، سلام کر نے کے بعد جب بھی وہ کچھ پوچھنے کے لئے آپ سے قریب ہو نے لگتا تو وہ اسے لے کر بھاگ کھڑی ہو تی، صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان یہ دیکھ کر ہنسنے لگتے، اونٹنی نےیہ فعل (تین) مرتبہ کیا پھربالآخر اسے سر کے بل گرا کر ماردیا۔عرض کی گئی : یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اونٹنی نے اعرابی کو گراکر ہلاک کردیا ہے ۔ارشاد فر مایا:ہاں! اور تمہارے منہ اس کے خون سے بھرے ہوئے ہیں ۔
جب مِزاح اس حد تک پہنچ جائے کہ اس سے وقار جاتا رہے تو یہ وہی مزاح ہے جس کے بارے میں امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعمرفاروقِ اَعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں: جو مزاح کرتا ہے وہ لوگوں کی نظروں سے گرجاتا ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الشمائل المحمدیة للترمذی، باب ماجاء فی ضحک رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم،ص ۱۳۷،حدیث :۲۱۸