Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
390 - 1245
تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:لَوْ تَعْلَمُونَ مَا اَعْلَمُ لَضَحِکْتُمْ قَلِیلًاوَّلَبَکَیْتُمْ کَثِیرً ایعنی اگر تم وہ جان لیتے جو میں جانتا ہوں تو کم ہنستے اورزیادہ روتے۔ (1)
طویل عرصے تک نہ ہنسنے والےبُزرگانِ دِین :
	ایک شخص نے اپنے  دینی بھا ئی(کوہنستے ہوئے دیکھا تو اس)سے پو چھا :کیا تمہیں معلوم ہے کہ تم دوزخ سے گزرو گے؟ اس نے کہا: ہاں! اس نے پو چھا:کیا یہ بھی معلوم ہے کہ تم اس سے نکل جا ؤ گے؟ اس نے کہا: نہیں۔ تو  اس  شخص نے کہا:پھر کس بات پر ہنستے ہو ؟
	کہا گیا ہے کہ اس کے بعد مرتے دم تک اسے ہنستا ہو ا نہیں دیکھا گیا ۔ 
	حضرت سیِّدُنایُوسُف بن اَسباط رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی30سال تک نہیں ہنسے ۔
	منقول ہے کہ حضرت سیِّدُنا عطاء سُلَمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی 40سال تک نہیں ہنسے ۔
کیا یہ خائفین کا فعل ہے؟
	حضرت سیِّدُنا وُہَیْب بن وَرْدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَحَد نے عید الفطر کے دن کچھ لوگوں کو ہنستے ہو ئے دیکھا تو ارشاد فرمایا: اگر ان لوگوں کی مغفرت ہو گئی ہے تو کیایہ شکر کرنے والوں کا کام ہے اور اگر ان کی بخشش نہیں ہوئی تو کیا یہ خائفین(یعنی ڈرنے والوں) کا فعل ہے۔
	حضرت سیِّدُناعبداللہ بن ابو یعلیٰعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَعْلٰی  فرمایا کرتے: تم ہنس رہے ہواور ہوسکتا ہے تمہارے کفن تیار ہوچکے ہوں(2)۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… بخاری، کتاب التفسیر،باب لاتسألوعن اشیاء...الخ،۳/ ۲۱۸  ،حدیث :۴۶۲۱
2…علامہ سیِّدمحمد بن محمدحسینی مرتضٰی زَبیدیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیفرماتے ہیں:”احیاء کےتمام نسخوں میں یہ قول عبداللہ بن ابویعلیٰ سے  منقول ہےجبکہ مجھےان  کا تذکرہ نہیں ملااور امام سخاویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِیکی مقاصد میں ہے:قال عبد اللّٰہ بن ثعلبہ،لہٰذاغورکر لو۔( اتحاف السادة المتقين،۹/ ۲۲۱)“اورخودحضرت سیِّدُناامام محمد بن محمدغزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِینے’’بَیَانُ السَّبَبِ فِیْ طُوْلِ الْاَمَلِ وَعِلَاجِہ‘‘ میں یہ فرمان عبداللہبن ثعلبہ سے نقل کیا ہے ۔