Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
39 - 1245
 وفرمانبردار ہیں،نیز معلومات سے دل کا تعلق ایسا ہے جیسے آئینہ کا تعلق اس کے سامنے موجود شے سے۔ جس طرح آئینہ کے سامنے موجود شے کی صورت آئینہ میں نقش ہو جاتی اور نظر آتی ہے اسی طرح تمام معلومات کی حقیقتیں ہیں اور ہر حقیقت کی ایک صورت ہے جو دل کے آئینہ میں نقش ہو جاتی ہے۔ جس طرح آئینہ، اس کے سامنے موجود شے اور اس میں نظر آنے والاعکس تین علیحِدہ اُمور ہیں اسی طرح دل، اشیاء (یعنی معلومات) کی حقیقتیں اور ان حقیقتوں کا دل میں نقش اور محفوظ ہوجانا بھی تین علیحِدہ اُمور ہیں۔ اسی لئے عالِم (یعنی علم والا) اس دل کو کہا جاتا ہے جس میں اشیاء کی حقیقتیں مُنَقَّش ہوں، اشیاء کی حقیقتوں کو معلومات اور ان حقیقتوں کے دل کے آئینہ میں منقش ہوجانے اور سماجانے کو علم کہا جاتا ہے۔
	(بظاہر) کوئی چیز پکڑنے کے لئے تین اُمور درکار ہوتے ہیں:مثلاً(۱)…جس سے پکڑاجائےجیسے ہاتھ (۲)… وہ شے جسے پکڑا جائے جیسےتلوار (۳)…تلوار اور ہاتھ کا باہم ملنا یعنی تلوار ہاتھ میں آنا۔ جس طرح ان امور سے حاصل ہونے والی کیفیت کو ”قبضہ“ کہتے ہیں ایسے ہی معلومات کا دل میں مُنَقَّش ہوجانا ”علم“کہلاتا ہے۔
	بعض اوقات کسی شے کی حقیقت پائی جاتی ہے اور دل بھی موجود ہوتا ہے لیکن علم حاصل نہیں ہوتا کیونکہ علم ”اشیاء کی حقیقت دل میں نقش ہوجانے“ کو کہتے ہیں۔ جیساکہ بعض اوقات تلوار موجود ہوتی ہے اور ہاتھ بھی موجود ہوتے ہیں لیکن تلوار ہاتھ میں نہ ہونے کی وجہ سے اسے ”قبضہ“ نہیں کہا جاتا،کیونکہ قبضہ کی صورت میں تلوار بذات خود ہاتھ میں پائی جاتی ہے،البتہ! معلومات بعینہٖ دل میں نہیں پہنچتیں مثلاً کسی کو آگ کا علم ہو تو اس سے ہرگز یہ مراد نہیں کہ آگ اس کے دل میں موجود ہے بلکہ مراد یہ ہوتی ہے کہ اسے آگ کی تعریف اور اس کی حقیقی  صورت کاعلم ہوگیا۔
دل کی آئینہ سے مُشابَہَت:
	دل کو آئینہ سے تشبیہ دینا زیادہ بہتر ہے کیونکہ انسان خود آئینہ میں داخل نہیں ہوتا بلکہ اس کی صورت آئینہ میں پائی جاتی ہے۔ یونہی معلومات کی حقیقتوں کی جو صورت دل میں حاصل ہوتی ہے اسے علم کہتے ہیں۔
آئینہ میں اشیاء کی صورتیں ظاہر نہ ہونے کی وجوہات:
	پانچ وجوہات کی بنا پر آئینہ میں اشیاء کی صورتیں ظاہر نہیں ہوتیں:(۱)…خود آئینہ میں کمی ہو مثلاً: لوہے