Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
389 - 1245
پائی  جاتی ہے تو اسےممنوع نہیں ہونا چاہئے ؟
	جواب:جا ننا چاہیے کہ مزاح وہ ممنوع ہے  جو حد سے زیادہ کیا جا ئے اور ہمیشہ اسی میں لگا رہا جا ئےاور جہاں تک ہمیشہ مزاح  کرتے رہنےکا تعلُّق ہے تو یہ کھیل کود اوردل لگی میں مشغول رہنا ہے  اور کھیل کود اگرچہ مباح ہے مگر اس پر ہمیشگی اختیا ر کرنا قابِل مَذمَّت ہے۔ رہی مزاح کی زیادتی تو اس سے  زیادہ ہنسی پیدا ہوتی ہے اور زیادہ ہنسنے سے دل مردہ ہو جا تا ہے،بسا اوقات دل میں بغض و عداوت پیدا ہو جا تا ہےاور ہیبت و وقار بھی ختم ہو جا تا ہے تو جو مزاح ان امور سے خالی ہو وہ قابل مذمت نہیں ہے ۔جیسا کہ مروی ہے کہ نبیّ پاک،صاحبِ لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:اِنِّی لَاَمْزَحُ  وَلَا اَقوْلُ اِلَّا حَقًّا یعنی بے شک  میں مزاح کرتا ہوں لیکن میں حق کے سوا کچھ نہیں کہتا۔(1) لیکن یہ آپ ہی کی شان تھی کہ مزاح بھی فرماتے اور جھوٹ بھی نہ ہوتا جبکہ دیگر لوگ جب مزاح شروع کرتے ہیں تو ان کا مقصد لوگوں کو ہنسانا ہو تا ہے خواہ کیسے بھی ہو۔ حالانکہ نبیّ پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ارشاد ہے: آدمی اپنے ہم نشینوں کوہنسانے کے لئے کوئی بات کہتا ہےتو اس  کےسبَب نارِ جَہَنَّم میں ثُرَیا(ستارے کے فاصلے) سےبھی دور جا گرتا ہے۔(2)
مِزاح کانقصان:
	امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرفاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں: ”جو زیادہ ہنستا ہے اس کی ہیبت کم ہو جا تی ہے اور جو مزاح کر تا ہے لوگوں کی نظروں سے گر جا تاہے، جو کسی کام کو کثرت سے کرتا ہے وہ اسی کے حوالے سے پہچانا جا تا ہے، جو زیادہ بو لتا ہے وہ زیادہ غَلَطِیاں کرتا ہے اور جس کی غلطیاں زیادہ ہوجائیں اس کی حَیا کم ہو جا تی ہے اور جس کی حیا کم ہو جائے اس کی پرہیز گاری کم ہو جا تی ہے اور جس کی پر ہیزگاری کم ہو جائے  اس کا دل مر جا تا ہے۔“
ہنسنا غفلت کی علامت ہے:
	علاوہ ازیں ہنسنا آخرت سےغفلت پر دلالت کرتا ہے ۔سرکار والا تبار،ہم بے کسوں کے مددگارصَلَّی اللہُ 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…سنن الترمذی، کتاب البروالصلة، باب ماجاء فی المزاح،۳/ ۳۹۹، حدیث :۱۹۹۷
2…موسوعة الامام ابن ابی الدنیا، کتاب الصمت،۷/ ۶۹، حدیث :۷۱