دیکھنے لگی تو آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: حیران کیوں ہو؟ میں نے عرض کی: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!میں نے آپ کو دیکھا تو آپ کی مبارک پیشانی پر پسینہ آرہا ہے اور اس سے نور پیداہو رہا ہے۔ اگرابوکبیرہُذلی آپ کواس حالت میں دیکھ لیتا تو اسے معلوم ہو جا تا کہ آپ اس کے شعر کے زیادہ مصداق ہیں۔آپ نے استفسار فرمایا:اے عائشہ !ابو کبیرہُذلی نے کیا کہا ہے؟میں نے عرض کی :اس نے یہ دوشعر کہے ہیں:
وَمُبَرَّأً مِّنْ كُلِّ غُبَّرِ حَيْضَةٍ وَفَسَادِ مُرْضِعَةٍ وَدَاءٍ مُغْيِلِ
فَإِذَا نَظَرْتَ إِلَى أَسِرَّةِ وَجْهِهِ بَرَقَتْ كَبَرْقِ الْعَارِضِ الْمُتَهَلِّلِ
ترجمہ:وہ حیض کے آخری ایام میں کئے گئے جِماع،دودھ پلانے والی کے فساد اور حالَتِ حمل کےدودھ پینے سے پیدا ہو نے والی بیماری سے پاک ہےاور جب تم اس کی پیشانی کی لکیروں کو دیکھو گے تو وہ چمکنے والے بادل کی طرح چمک رہی ہوں گی(1)۔
فرماتی ہیں:آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے دست مبارک میں موجود چیزکو رکھا، میرے طرف تشریف لائے اور میری آنکھوں کے درمیان بو سہ دے کر ارشاد فرمایا: جَزَاكِ اللّٰہُ خَيْرًا يَا عَائِشَةُ مَا سُرِرْتِ مِنِّى كَسُرُورِى مِنْكِ یعنی اے عائشہ! اللہ عَزَّ وَجَلَّتمہیں جزائے خیر عطافرمائے ،تم مجھ سے اتنی خوش نہیں ہوئی ہوگی جتنا میں تم سے خوش ہواہوں۔(2)
شعر زبان پر چیو نٹیوں کی طرح رینگتے ہیں:
سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے غزوۂ حُنَیْن کے دن جب مالِ غنیمت تقسیم فرمایا توحضرت عباس بن مِرداس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کوچاراونٹنیاں دینے کا حکم فرمایا تو وہ اپنے اشعار میں اس کا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…وہ حیض کے آخری ایام میں کئے گئے جماع سے پاک ہے "اس سے مراد یہ ہے کہ اس کی ماں کے ساتھ حیض کے آخری ایام میں ہم بستری نہیں کی گئی بلکہ وہ طہر کی حالت میں حاملہ ہو ئی ہے کیو نکہ اہْلِ عَرَب کا یہ گمان تھا کہ جب حیضکے آخری ایام میں جماع کیا جا ئے تو بچہ خراب پیدا ہو گا۔"وہ دودھ پلانے والی کے فساد سے پاک ہے "اس سے مراد یہ ہے کہ جس عورت نے اسے دودھ پلایا ہے اس سے دودھ پلانے کی حالت میں جماع نہیں کیا گیا کیو نکہ عرب کا خیال تھا کہ دودھ پلانے والی سے جماع کیا جائے تو اس کا دودھ خراب ہو جا تا ہے اور جب بچہ وہ دودھ پئے گا تو وہ بھی خراب ہو جا ئے گا۔’’وہ حالت حمل کےدودھ پینےسے پیدا ہو نے والی بیماری سے پاک ہے‘‘اس کا مطلب یہ ہے کہ حاملہ عورت نے اسے دودھ نہیں پلایا،عرب کا خیال تھا کہ حاملہ عورت اگر بچے کو دودھ پلا ئے گی تو وہ شَہسُوار نہیں ہو سکتا بلکہ گھوڑےسے گر پڑے گا۔
(اتقان الفراسة فی شرح دیوان الحماسة، ص۷۷……اتحاف السادة المتقين،۹/ ۲۱۶)
2…سنن الکبری للبیھقی، کتاب العدد، باب الحیض علی الحمل،۷/ ۶۹۲، حدیث :۱۵۴۲۷