Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
386 - 1245
بعض اشعار حکمت پر مبنی ہوتے ہیں:
	نورکے پیکر،تمام نبیوں کے سَرْوَرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: اِنَّ  مِنَ الشِّعْرِ لَحِکْمَةً یعنی بعض اشعار حکمت  پر مبنی ہوتے ہیں۔(1)
	البتہ شعر سے مقصود تعریف،مذمت اورعشقیہ اَوصاف کا ذکر ہو تا ہے تو اس میں کبھی جھوٹ بھی داخل ہو جاتا ہے ۔
	مدینے کے تاجدارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےحضرت سیِّدُناحَسّان بن ثابِت اَنصاریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کوکفار کی ہَجْو ومذمت میں اشعار کہنے کا حکم دیا ۔(2)
	تعريف میں مبالغہ کرنااگر چہ یہ جھوٹ ہےلیکن حرام ہونے کے مُعامَلے میں یہ جھوٹ سے منسلک نہیں ہو گا جیسا کہ شاعركا یہ کہنا: 
وَلَوْ لَمْ یَکُنْ فِیْ کَفِّہِ غَیْرُ رُوْحِہِ  	لَجَادَ بِہَا فَلْیَـتَّقِ اللّٰہَ سَائِلُہُ
ترجمہ: اگر اس کے پاس  روح کے علاوہ کچھ نہ ہو تا تو وہ اسے ہی لٹا دیتا تو مانگنے والے کو بھی اللہ  عَزَّ  وَجَلَّسے ڈرنا چاہئے۔ 
	اس شعر میں سخاوت کےانتہائی درجہ کو بیان کرنا مقصود ہے توشعر میں جس کی تعریف کی گئی ہےاگر  وہ سخی نہیں ہے توشاعر جھوٹا ہو گا اور اگر وہ سخی ہے تومُبالَغہ فَنِّ شعری سے ہے اور اس سے مقصود یہ نہیں ہو تا کہ وہ اس  صورت کو سچ سمجھتا ہے۔حضورنبیّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے سا منے کئی اشعارپڑھے گئے اگر تلاش کیا جائے تو ان میں بھی اس قسم کی باتیں ملیں گی لیکن آپ نے اس سے منع نہیں فرمایا۔
نورانی پسینہ:
	اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ میرے سرتاج ،صاحِبِ معراج صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنا مبارک جو تا سِی رہے تھےاور میں بیٹھی سوت کات رہی تھی۔ میں نے آپ کی طرف دیکھا تو جَبِیْنِ اَقدس(مبارک پیشانی) پر پسینہ آرہا تھا جس سےنور پیدا ہو رہا تھا۔آپ فرماتی ہیں: میں حیران ہو کر آپ کو
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… بخاری، کتاب الادب، باب مایجوز من الشعر...الخ ،۴/ ۱۳۹، حدیث ۶۱۴۵
2… بخاری، کتاب بدء الخلق، باب ذکر الملائکة ،۲/ ۳۸۳، حدیث : ۳۲۱۳