شر کی دعا کرنا بھی لعنت کے قریب ہے:
كسی شخص کے خلاف شر کی دعا کرنا بھی لعنت کے قریب قریب ہے حتّٰی کہ ظالم کے خلاف دعاکرنا بھی اس کے قریب ہے مثلاًکسی کا یہ کہناکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّفُلاں سے اس کی بیماری دور نہ کرے اور اسے (آفات وغیرہ) سے محفوظ نہ رکھےیا اس قسم کے دوسرے الفاظ کہنا ،قابل مذمت ہے ۔
حدیث شریف میں ہے : اِنَّ الْمَظْلُوْمَ لَیَدْعُوْ عَلَی الظَّالِمِ حَتّٰی یُکَافِئَہٗ ثُمَّ یَـبْقٰی لِلظَّالِمِ عِنْدَہٗ فَضْلَـةٌ یَوْمَ الْقِیَامَةِ یعنی مظلوم ظالم کے خلاف دعا کرکے اپنا بدلہ لے لیتا ہے پھر ظالم کے لئے بروز قیامت کچھ زیادتی باقی رہ جاتی ہے (جبکہ مظلوم بدلہ لینے میں بڑھ جائے)۔ (1)
آفت نمبر9: گانااورشاعری
ہم سَماع کے بیان میں ذکر کر چکے کہ کون سا گانا حرام ہے اور کون سا حلال ہے،لہٰذا ہم اسے دوبارہ ذکر نہیں کریں گے۔ جہاں تک شاعر ی کی بات ہے تو کلام اگراچھاہو تواچھا ہے اور براہو تو برا ہے البتہ عبادت وغیرہ چھوڑ کر اسی میں لگے رہنا قابل مذمت ہے۔
حضورنبیّ رحمتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: لَاَنْ یَمْتَلِئَ جَوْفُ اَحَدِکُمْ قَیْحًا حَتّٰی یَرِیَہُ خَیْرٌ لَّہٗ مِنْ أَنْ یَمْتَلِئَ شِعْرًا یعنی تم میں سے کسی کےپیٹ کا پیپ سے بھر کر خراب ہو جانا اس سے بہتر ہے کہ وہ شعر سے بھرا ہواہو۔(2)
حضرت سیِّدُنامَسروق رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سےشعر کے ایک مصرعہ کے متعلق پوچھا گیا تو آ پ نے اسے ناپسند کیا۔ آپ سے اس کی وجہ پو چھی گئی تو ارشاد فرمایا :مجھے یہ پسند نہیں ہے کہ میرے نا مۂ اعمال میں کو ئی شعر پا یا جائے۔
كسی بزرگ سے شعر كے بارے میں پو چھا گیا تو ارشادفر مایا: اس کی جگہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ذکر کیا کرو کیو نکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکا ذکرشعر سے بہتر ہے ۔
خلاصہ یہ ہے کہ شعر کہنا اور اسے مرتب کرنا حرام نہیں ہے جبکہ اس میں نا پسندیدہ کلام نہ ہو ۔چنانچہ،
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تذکرة الموضوعات، باب الامام العادل والظالم...الخ ، ص ۱۸۴
2… بخاری، کتاب الادب ، باب ما یکرہ ان یکون الغالب علی الانسان…الخ ،۴/ ۱۴۳، حدیث :۶۱۵۵