نہ ہو سکے تو خاموش رہنے میں عافیت ہے ۔
دو کَلِمات:
حضرت سیِّدُنا مکی بن ابراہیم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَّحِیْم فرماتے ہیں : ہم حضرت سیِّدُناابْنِ عَوْن رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی خدمت میں حاضر تھے۔ (بصرہ کے امیر اورقاضی)بلال بن ابی بردہ کا ذکر آیا تو لوگ اس پر لعنت کرنے لگےاور برا بھلا کہنے لگے ۔حضرت ابن عون رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ خاموش رہےتو لوگوں نے کہا:اے ابن عون !ہم اس کی مذمت اس لئےکر رہے ہیں کہ اس نے آپ کے ساتھ برا سلوک کیا۔حضرت ابن عون رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نےسنا تو ارشاد فرمایا:بروز قیامت میرے نامۂ اعمال سے دو کلمات ” لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ“اور”فلاں پر اللہ عَزَّ وَجَلَّکی لعنت“نكلیں اس کے بجائے مجھے یہ زیادہ مَحبوب ہے کہ میرے نامۂ اعمال سےصرف ” لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ“نكلے۔
لعنت کرنے والا نہ بننا:
ایک شخص نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی:مجھے نصیحت فرمائیے۔ ارشادفرمایا: میں تمہیں نصیحت كرتا ہوں کہ لعنت کرنے والا نہ بننا۔(1)
حضرت سیِّدُناعبداللہبن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں: ہرطعنہ دینے والا اورلعنت کرنے والا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نزدیک سب سے زیادہ نا پسندید ہ ہے ۔
مومن کو لعنت کرناقتل کے برابرہے:
منقول ہےکہ مومن پرلعنت بھیجنااسے قتل کرنے کے برابرہے۔حضرت سیِّدُنا حماد بن زید رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اسے روایت کرنے کے بعد فرماتے ہیں:اگرمیں کہوں کہ یہ مرفوع (یعنی یہ حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے مروی )ہے تو مَیں اس میں حرج نہیں جانتا۔(2)
حضرت سیِّدُناابو قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بيان كرتے ہیں:منقول ہے کہ جو شخص کسی مومن پرلعنت كرتا ہے تو گویا وہ اسے قتل کرتا ہے ۔یہ بات حضورنبیّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے بھی مروی ہے ۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المعجم الکبیر،۲/ ۲۸۳،حدیث :۲۱۸۰
2…بخاری، کتاب الادب، باب من کفر اخاه بغير تاویل....الخ،۴/ ۱۲۸، حدیث:۶۱۰۵