Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
383 - 1245
صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو بُرا بھلا کہنے کی مَذمَّت:
	رسولِ بے مثال،بی بی آمنہ کے لال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: اے لوگو! میرے صحابہ، میرے رُفَقااور میرے سسرالی رشتہ داروں  کے معاملے میں میری عزت و حُرمت کا لحاظ رکھو اور انہیں برا بھلا نہ کہو، اے لوگو! جب مرنے والا مرجائے تو اس کا بھلائی سےتذکرہ کرو۔(1)
سیِّدُناامام حسینرَضِیَ اللہُ عَنْہکے قاتل کو لعنت کرنا کیسا؟
	کیا یہ کہنا درست ہے  کہ امام عالی مقام حضرت سیِّدُناامام حسین  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے قاتل یا قتل کا حکم دینے والے پر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی لعنت؟
	جواب:ہم کہتے ہیں کہ درست یہ ہےکہ یوں کہا جا ئے:حضرت سیِّدُنا امام حسینرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ كا قاتل اگر توبہ سے پہلے مرگیا تو اس پر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کی لعنت  ہو،کیو نکہ یہ احتمال بہرحال موجودہےکہ  وہ توبہ کے بعد مرا ہو۔ چنانچہ حضرت وحشی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے قبولِ اسلام سے قبل رسولُاللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے چچا جان حضرت سیِّدُنا حمزہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکوشہید کیا اور اسلام لانے کے بعد قتل اور کفر دونوں سے توبہ کر لی، لہٰذا قتل کے سبب (کسی مسلمان پر)لعنت کرنا جائز نہیں کیونکہ قتل اگر چہ کبیرہ گناہ ہےليكن کفر کے درجہ تک نہیں پہنچتا۔معلوم ہوا توبہ  کی قید کے بغیر مطلقا ًلعنت بھیجنے میں خطرہ ہے اور خاموش رہنے میں کو ئی خطرہ نہیں ہے ،لہٰذا خاموش رہنا ہی زیادہ منا سب ہے ۔
مذکورہ بحث کی غرض:
	ہم نےیہ گفتگو صرف اس لئے کی ہے کہ لوگوں نے لعنت کو آسان سمجھ لیا ہے اور لعنت کے معاملے میں زبان کو آزاد چھوڑدیا ہے حالانکہ مومن لعنت کرنے والا نہیں ہو تا ۔لعنت صرف اس پر کی جائے جو کفر پر مرا ہو یاعمومی صفات کے ساتھ کی جائے (جیسے کا فروں یا ظالموں  پر اللہ کی لعنت)اورمُعَیَّن اَشخاص پر نہ کی جائے۔لعنت کرنے کےبجائےاللہ  عَزَّ  وَجَلَّ  کے ذکر میں مشغول ہونا زیادہ مناسب ہے اگر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کاذکر 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مساویٔ الاخلاق للخرائطی ، باب مایکرہ من سب الاموات، ص ۶۱،حدیث ۱۰۰