Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
382 - 1245
	مدینے کے تاجدارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:جب کوئی دوسرے کے کفر پرہو نے کی گواہی دیتا ہے تو کفر ان دونوں میں سے ایک کی طرف لو ٹتا ہے اگر وہ شخص کافر ہو تو وہ ایسا ہی ہے جیسا اس نے کہا اور اگر کافر نہ ہو تو اس کی تکفیر کرنے کے سبب کہنے والا خود کا فر ہو جا تا ہے ۔(1) 
شرح حدیث:
	اس حدیث کا مطلب  یہ ہے کہ اسے دوسرے شخص کے مسلمان ہونے کا علم ہے پھر بھی اسے کافر قرار دےاور اگرکسی بدعت وغیرہ کے سبب اس کے کافر ہو نے کا اسےگمان ہوتووہ خطاکار ہو گا کا فر نہیں ہو گا ۔
	حضرت سیِّدُنامُعاذبن جَبَلرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بيان كرتے ہیں کہ حضورنبیّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھ سے ارشاد فرمایا :میں تمہیں مسلمان کو گالی دینے اورعادل امام کی نافرمانی کرنے سے روکتا ہوں۔(2)
	فوت شدہ لوگوں کو بُرابھلا کہنے کا بہت سخت حکم ہے۔چنانچہ
مُردوں کو برا نہ کہو:
	حضرت سیِّدُنا مَسروق رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  بيان كرتے ہیں کہ میں اُمُّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُناعائشہ صِدِّیْقہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی خدمت میں حاضر ہو اتو آپ نے ارشادفرمایا:فلاں  کا کیا حال ہے اس پر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ   کی لَعْنَت؟ میں نےعرض کی: اس کا انتقال ہو گیا ہے تو آپ نے فرمایا: اس پر اللہ عَزَّ  وَجَلَّکی رحمت ہو ۔میں نے عرض کی: اس کی کیا وجہ ہے؟(کہ پہلے لعنت اور اب رحمت کی دعا )توآپ نے فرمایا:رسولُاللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے ارشاد فرمایاہے:مُردوں کو برا مت کہو کہ وہ اپنے کئے کو پہنچ چکے۔ (3)
	تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نَبوت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :مُردوں کو بُرا نہ کہو کہ اس کے باعث زندوں کو ایذا پہنچتی ہے۔(4)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مساویٔ الاخلاق للخرائطی، باب مایکرہ من لعن المؤمن وتکفیرہ، ص ۲۵،حدیث:۱۸
2…مساویٔ الاخلاق للخرائطی، باب ما یکرہ من سب الناس وتناول اعراصھم ، ص۳۰، حدیث :۳۰
3… بخاری، کتاب الجنائز، باب ماینھی من سب الاموات،۱/ ۴۷۰،حدیث :۱۳۹۳
4…سنن الترمذی ، کتاب البروالصلة ، باب ماجاء فی الشتم،۳/ ۳۹۵ ، حدیث :۱۹۸۹