Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
381 - 1245
کفر کی تہمت لگانا:
	دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’جو شخص دوسرے پر کُفر اور فِسْق کی تُہْمَت لگائے اور  وہ شخص ایسا نہ ہوا تو وہ تہمت کہنے والے کی طرف لو ٹ آتی ہے ۔(1)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…اور ان کے اتباع وموافقین اسے کافر کہتے اور بہ تخصیص نام اس پر لعن کرتے ہیں اور اس آیہ ٔ کریمہ سے اس پرسندلاتے ہیں: فَہَلْ عَسَیۡتُمْ اِنۡ تَوَلَّیۡتُمْ اَنۡ تُفْسِدُوۡا فِی الْاَرْضِ وَ تُقَطِّعُوۡۤا اَرْحَامَکُمْ ﴿۲۲﴾ اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ لَعَنَہُمُ اللہُ فَاَصَمَّہُمْ وَ اَعْمٰۤی اَبْصَارَہُمْ ﴿۲۳﴾ (پ۲۶،محمد:۲۲،۲۳)کیا قریب ہے کہ اگر والی ملک ہو تو زمین میں فساد کرو اور اپنے نسبی رشتہ کاٹ دو یہ ہیں وہ لوگ جن پر اللہ نے لعنت فرمائی تو انہیں بہرا کردیا اور ان کی آنکھیں پھوڑدیں۔شک نہیں کہ یزید نے والی مُلک ہوکر زمین میں فسادپھیلایا ، حَرَمَیْن طَیِّبَیْن وخود کعبہ مُعَظَّمَہ وروضہ طیبہ کی سخت بے حرمتیاں کیں، مسجد کریم میں گھوڑے باندھے، ان کی لید اور پیشاب منبر اَطہر پر پڑے، تین دن مسجد نبیصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمبے اذان ونماز رہی ، مکہ ومدینہ وحجاز میں ہزاروں صحابہ وتابعین بےگناہ شہید کئے، کعبہ معظمہ پر پتھر پھینکے، غِلاف شریف پھاڑ ا اور جلادیا، مدینہ طیبہ کی پاکدامن پارسائیں تین شَبانہ روز اپنے خبیث لشکر پر حلال کردیں،رسولُاللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمکے جگر پارے کو تین دن بے آب ودانہ رکھ کر مع ہمرائیوں کے تیغ ظلم سے پیاسا ذبح کیا، مصطفٰیصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے گود کے پالے ہوئے تن نازنین پر بعد شہادت گھوڑے دوڑائے گئے کہ تمام اُسْتُخْوان مبارَک چور ہوگئے ، سرِاَنورکہ محمدصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا بوسہ گاہ تھاکاٹ کر نیزہ پر چڑھایا اور منزلوں پھرایا، حَرَمِ محترم مُخَدَّرات مُشکُوئے رسالت قید کئے گئے اور بے حرمتی کے ساتھ اس خبیث کے دربار میں لائے گئے، اس سے بڑھ کر قطع رحم اور زمین میں فساد کیا ہوگا ، ملعون ہے وہ جو ان ملعون حَرَکات کو فِسْق وفجُور نہ جانے، قرآن عظیم میں صراحۃ اس پر لَعَنَہُمُ اللہُ (پ۲۲،الاحزاب:۵۷،ترجمۂ کنز الایمان:ان پراللہکی لعنت ہے۔)فرمایا، لہٰذا امام احمد اوران کے موافقین ان پر لعنت فرماتے ہیں اور ہمارے اِمام اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے لعن وتکفیر سے احتیاطاً سُکُوت فرمایا کہ اس سے فسق وفجور متواتر ہیں کفر متواتر نہیں اور بحالِ احتمال نسبت ِکبیرہ بھی جائز نہیں نہ کہ تکفیر، اور اَمثالِ وعیدات مشروط بعَدَمِ توبہ ہیں لقولہ تعالیٰ: فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیًّا ﴿ۙ۵۹﴾ اِلَّا مَنۡ تَابَ (پ۱۶،مریم:۶۰،۵۹،ترجمۂ کنز الایمان:تو عنقریب وہ  دوزخ میں غی کا جنگل پائیں گے مگر جو تائب ہوئے۔)اور توبہ تادم غرغرہ مقبول ہے اور اس کے عَدَم پر جزم نہیں اور یہی اَحْوَط واَسْلم ہے، مگر اس کے فسق وفجور سے انکار کرنا اور امام مظلوم پر الزام رکھنا ضروریاتِ مذہَبِ اہْلِ سُنَّت کے خِلاف ہے اور ضَلالت وبدمذہبی صاف ہے ،بلکہ انصافاً یہ اس قَلْب سے متصور نہیں جس میں محبت ِ سیِّدِ عالَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمکا شَمّہ ہو، وَ سَیَعْلَمُ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡۤا اَیَّ مُنۡقَلَبٍ یَّنۡقَلِبُوۡنَ ﴿۲۲۷﴾٪   ترجمۂ کنز الایمان:اوراب جانا چاہتے ہیں ظالم کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے۔(پ۱۹،الشعرآء:۲۲۷)
	احکام شریعت،ص130پر فرماتے ہیں: یزید پلید کے بارے میں اَئِمَّہ اہْلِ سُنَّت کے تین قول ہیں اِمام احمد وغیرہ اکابِر اسے کافر جانتے ہیں تو ہرگز بخشش نہ ہوگی اور امام غزالی وغیرہ مسلمان کہتے ہیں تو اس پر کتنا ہی عذاب ہو بالآخر بخشش ضرور ہے اور ہمارے اِمام سُکُوت فرماتے ہیں کہ ہم نہ مسلمان کہیں نہ کافر لہٰذا یہاں بھی سُکُوت کریں گے۔وَاللہُ تَعَالٰی اَعْلَم
1…بخاری،کتاب الادب،باب ماینھی من السباب واللعن،۴/ ۱۱۱،حدیث:۶۰۴۵