Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
380 - 1245
	آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کالعنت سے روکنا اس بات پر دلیل ہےکہ کسی فاسق کو معین کرکے لعنت بھیجنا جا ئز نہیں۔
خلاصۂ بحث:
	خلاصہ یہ ہے کہ معَیَّن اشخاص پر لعنت کرنے میں خطرہ ہے،لہٰذا اس سے بچنا چاہئے۔جب شیطان پر لعنت  نہ کرنے میں کوئی خطرہ نہیں تو کسی دوسرے پر لعنت  نہ کرنے میں کیو نکر خطرہ ہو گا۔
یزید پلید پر لعنت کرنا کیسا؟
	اگر کہا جا ئے  کہ کیا یزید پر لعنت کرنا جا ئز ہے کیو نکہ وہ امام عالی مقام حضرت سیِّدُناا امام حسین  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا قاتل ہے یا آپ کے قتل کا حکم دینے والا ہے؟
	جواب:ہم کہتے ہیں  کہ یہ بات بالکل ثابت نہیں، لہٰذا جب تک ثابت نہ ہو جا ئےیہ کہنا جائز نہیں کہ یزید نے آپ کو قتل کیا یا اس کا حکم دیا، لعنت کرنا تو دور کی بات ہے کیو نکہ تحقیق کے بغیر کسی مسلمان کی نسبت کبیرہ گناہ کی طرف کرنا جا ئز نہیں۔ البتہ یہ کہنا جائز ہے کہ (خارجی)ابنِ مُلجم نے امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کو اور ابولُؤلُؤ(مجوسی) نے امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعمر فاروقِ اعظم  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  کو شہید کیا کیونکہ یہ تواتر کے ساتھ ثابت ہے،لہٰذا بغیر تحقیق کے کسی مسلمان پر فِسْق و کُفر کی تہمت لگا نا جا ئز نہیں(1)۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 1250صفحات پر مشتمل کتاب بہارشریعت،جلداول، حصہ1،صفحہ 261پر صَدْرُ الشَّرِیْعَہ،بَدْرُالطَّرِیْقَہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں:یزید پلید فاسق فاجر مرتکبِ کبائر تھا، معاذاﷲاس سے اور ریحانۂ رسولاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمسیِّدُناامام حسینرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے کیا نسبت؟! آج کل جو بعض گمراہ کہتے ہیں کہ: ”ہمیں ان کے معاملہ میں کیا دخل؟ ہمارے وہ بھی شہزادے، وہ بھی شہزادے۔“ایسا بکنے والا مردود، خارجی، ناصبی مستحق جہنم ہے۔ ہاں! یزید کو کافر کہنے اور اس پر لعنت کرنے میں علمائے اہْلِ سنّت کے تین قول ہیں اور ہمارے امامِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا مسلک سُکُوت، یعنی ہم اسے فاسق فاجر کہنے کے سوا، نہ کافر کہیں، نہ مسلمان۔
	اعلی حضرت،امام اہلسنت،مولاناشاہ امام احمد رضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰنفتاوٰی رضویہ(مخرجہ)،جلد 14، صفحہ591تا593 پرفرماتے ہیں:”یزیدپلیدعَلَیْہِ مَا یَسْتَحِقُّہُ مِنَ الْعَزِیْزِ الْمَجِیْد قطعا ًیقینا ًباجماعِ اہلسنت فاسق وفاجر وجری علی الکبائر تھا اس قدر پر اَئِمَّہ اہل سنت کا اِطباق واِتِّفاق ہے، صرف اس کی تکفیر ولعْن میں اختلاف فرمایا۔ امام اَحمد بن حنبلرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاور…☜