نافرمانی دل کو سیاہ کرتی ہے تو جو شخص گناہوں میں پڑا رہے اس کا دل سیاہ ہوجاتا ہے اور جو گناہ سرزد ہونے کے بعد نیکی کرلے تو گناہ کا اثر زائل ہوجاتا ہے، اس کے دل پر سیاہی نہیں چھاتی البتہ اس کے نور میں ضرور کمی آجاتی ہے جیسے آئینہ کو پھونکے مار کے صاف کیا جائے تو اس پر کچھ نہ کچھ میل باقی رہ ہی جاتا ہے۔
دل کی اقسام:
اللہ عَزَّ وَجَلَّکےمحبوب،دانائے غیوبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:دل چار طرح کے ہوتے ہیں:’’(۱)…صاف ستھرا دل جس میں چراغ روشن ہو، یہ مومن کا دل ہے (۲)…سیاہ اور اوندھا دل، یہ کافر کا دل ہے (۳)… بند غلاف میں موجود دل، یہ منافق کادل ہے اور (۴)…وہ دل جس میں ایمان و نفاق دونوں جمع ہوں، ایسے دل میں ایمان کی مثال اس سبزے کی سی ہے جس کی نَشْوو نَما صاف پانی سے ہو اور نفاق کی مثال اس زخم کی طرح جو گندگی اور پیپ کے سبب بڑھتا چلا جائے تو ان دونوں میں سے جو مادہ بھی دل پر غالب آجائے اسی کا حکم جاری ہوگا۔‘‘(1)ایک روایت میں ہے کہ دل کو وہی مادہ لےجائے گا۔(2)
اللہعَزَّوَجَلَّارشادفرماتاہے: اِنَّ الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا اِذَا مَسَّہُمْ طٰٓئِفٌ مِّنَ الشَّیۡطٰنِ تَذَکَّرُوۡا فَاِذَا ہُمۡ مُّبْصِرُوۡنَ ﴿۲۰۱﴾ۚ (3) (آیات وروایات سے)واضح ہوگیا کہ دل کی نورانیت وبصیرت اللہ عَزَّ وَجَلَّکے ذکر سے حاصل ہوتی ہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ذکر وہی کرتے ہیں جو اس سے ڈرتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ تقوٰی ذِکرِالٰہی کی بنیاد ہے، اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ذکر سے ہی انسان کو کشف کی نعمت حاصل ہوتی ہے اور کشف انسان کی بڑی کامیابی ہے اوریہی کامیابی اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ملاقات کا سبب بنتی ہے۔
پانچویں فصل: دل اور معلومات کے باہمی تعلق کی مثال
جان لیجئے کہ علم کا ٹھکانادل یعنی تمام اعضاء کوچلانے والا ربّانی لطیفہ ہے اور تمام اعضاء اس کے خادم
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المسندللامام احمدبن حنبل،مسندابی سعيدالخدری،۴/ ۳۶، حديث:۱۱۱۲۹ بتغير
قوت القلوب،الفصل الثلاثون،ذکرتفصيل الخواطرلاھل القلوب...الخ،۱/ ۲۰۰
2…قوت القلوب،الفصل الثلاثون،ذکرتفصيل الخواطرلاهل القلوب...الخ،۱/ ۲۰۰
3… ترجمۂ کنز الایمان:بےشک وہ جو ڈر والے ہیں جب انہیں کسی شیطانی خیال کی ٹھیس لگتی ہے ہوشیار ہوجاتے ہیں اسی وقت ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں۔(پ۹،الاعراف:۲۰۱)