Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
379 - 1245
لَیۡسَ لَکَ مِنَ الۡاَمْرِ شَیۡءٌ اَوْ یَتُوۡبَ عَلَیۡہِمْ اَوْ یُعَذِّبَہُمْ فَاِنَّہُمْ ظٰلِمُوۡنَ﴿۱۲۸﴾(پ۴،اٰل عمرٰن:۱۲۸)
ترجمۂ کنز الایمان: یہ بات تمہارے ہاتھ نہیں یا انہیں توبہ کی توفیق دے یا اُن پر عذاب کرے کہ وہ ظالم ہیں ۔
	یعنی ہوسکتاہےکہ وہ اسلام لے آئیں آپ نے کیسے جان لیا کہ یہ لوگ ملعون ہیں؟ اسی طرح جن کا کفر پرمرناہم پرواضح ہو ان پر لعنت بھیجنا اور ان کی مذمت کرنا جائز ہے جبکہ اس میں کسی مسلمان کو اَذِیَّت نہ ہوورنہ جائز نہیں۔ جیساکہ مروی ہے کہ سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمطائف تشریف لے جاتے ہوئے ایک قبر کے پاس سے گزرے تو امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناابو بکر صدیقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  سے اس کے متعلق استفسار فرمایاتو انہوں نے عرض کی: یہ اس شخص کی قبر ہے جو اللہ عَزَّ  وَجَلَّاور اس کے رسول کا نا فرمان و باغی تھا اور وہ سعید بن عاص تھا تو اس کے بیٹے عمرو بن سعید کو غصہ آیا اور انہوں نے عرض کی: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!یہ اس شخص کی قبر ہے جو ابوقَحافہ سے زیادہ کھانا کھلاتا تھا اور اس سے زیادہ بہادر تھا۔ حضرت سیِّدُناابو بکر صدیق  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  نے عرض کی: یارسولَ اللہ   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !یہ  مجھ سے اس قسم کی بات کہہ رہے ہیں تو آپ نے ارشاد فرمایا:ابو بکر سے اپنی زبان روک لو۔چنانچہ وہ چلے گئےپھرآپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم،حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی طرف مُتَوجّہ ہو ئے اور ارشاد فرمایا:اے ابو بکر!جب تم کفار کا ذکر کرو تو عمومی لفظ کے سا تھ کیا کرو ،جب مخصوص شخص کا ذکر کرو گے تو آباءواجداد کی وجہ سے بیٹوں کو غصہ آئے گا۔(1)چنانچہ لوگ ایسے فعل سے رک گئے۔
اپنے بھائی کے خلاف شیطان کے مدد گار نہ بنو:
	ایک شخص كو شراب پینے کے سبب حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی مجلس میں کئی مرتبہ حد لگائی گئی۔کسی نے کہا: اس پر اللہ  عَزَّ  وَجَلَّ   کی لعنت ہو کتنی بار اسےحد کے لئے لایا گیا(پھر بھی باز نہیں آتا) تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: اپنے بھائی کے خلاف شیطان کے مدد گار نہ بنو ۔ایک روایت میں ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا:ایسا نہ کہو کیو نکہ یہ اللہ  عَزَّ  وَجَلَّ  اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے۔(2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الزھد لھناد بن السری،باب من کرہ سب الموت، الجزء الثانی، ص ۵۶۱، حدیث :۱۱۶۸
2… بخاری، کتاب الحدود، باب ما یکرہ من لعن شارب الخمر...الخ،۴/ ۳۳۰،حدیث: ۶۷۸۰، ۶۷۸۱