اللہ عَزَّ وَجَلَّ کامُقَرَّب ہو کرمرے تو اس کے ملعون ہونے کا فیصلہ کیسےکیا جا سکتا ہے ؟
ایک سوال اور اس کا جواب:
اگر کوئی یہ کہے کہ کا فرپر لعنت کرنا درست ہونا چاہئے کیو نکہ لعنت کےوقت وہ کا فر ہے جیسا کہ مسلمان کے لئےرَحِمَہُاللہ(یعنیاللہ عَزَّ وَجَلَّ اس پر رحم فرمائے)کہا جا تا ہے کیو نکہ وہ موجودہ وقت میں مسلمان ہے حالانکہ اس کا مرتد ہوجانا بھی ممکن ہے ؟
جواب: جان لیجئے! ہمارا کسی مسلمان کورَحِمَہُ اللہکہنےکامطلب یہ ہوتا ہےکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کو اسلام پر جو کہ رحمت کا سبب ہے اور عبادت پر ثابت قدمی عطا فرمائے۔یہ کہنا جائز نہیں ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کافر کو کفرپر ثابت قدم رکھے جو کہ لعنت کا سبب ہےکیو نکہ یہ کفر کا سوال ہے اور یہ سوال از خود کفر ہے البتہ یوں کہنا جائز ہےکہ اگر یہ کفر پر مرے تو اس پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی لعنت اور اگر اسلام پر اس کی موت واقع ہو تو اس پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی لعنت نہ ہو مگرچونکہ ایمان یا کفرپر خاتمے کاتعلُّق عِلْمِ غیب سے ہے اورمطلق لعنت کرنےمیں کوئی جِہَت مُتَعَیَّن نہیں ہوتی لہٰذااس میں بھی خطرہ ہے اور لعنت نہ کرنے میں کوئی خطرہ نہیں۔جب آپ نے کا فر کے متعلق یہ بات جان لی تو زیداگر فاسق یا بدعتی ہے تو اس پر لعنت کرنےسے بدرجہ اَولیٰ بچنا چاہئے۔معلوم ہوا مُعَیَّن افراد پر لعنت کرنے میں خطرہ ہے کیو نکہ ان کی حالت بدلتی رہتی ہے سوائے یہ کہ جن کے متعلق رسولِ اَکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمخبر دے دیں (ان پر لعنت کرنے میں خطرہ نہیں)کیو نکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم كا کسی شخص کے کفر پر مرنے کی خبر دينا درست ہےاور اسی لئے آپ نے معین لوگوں پر لعنت فرمائی۔ چنانچہ آپ نے قریش کے خلاف اپنی دعا میں کہا :اےاللہ عَزَّ وَجَلَّ!ابو جہل بن ہِشام اور عُتبہ بن رَبیعہ کی پکڑ فرما۔(1) اوربَدْر کے دن کفر پر مرنے والی ایک جماعت کے خلاف بھی دعا کی کیونکہ ان کے انجام کی آپ کو خبر تھی مگر جن کے انجام سےآپ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے باخبر نہ تھے ، ان کے متعلق جب آپ نے لعنت کی تو آپ کو اس سے روک دیا گیا جیساکہ مروی ہے کہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ایک مہینے تک (نماز فجرکے اندر) دعائےقنوت میں بئر ِمعونہ والوں کے قاتلوں پر لعنت بھیجتے رہے(2) تویہ آیتِ مبارَکہ نازل ہوئی:
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… بخاری، کتاب الوضوء ، باب اذا القی علی طھر المصلی...الخ ،۱/ ۱۰۳، حدیث :۲۴۰
2… مسلم، کتاب المساجد ومواضع الصلاة، باب استحباب القنوت فی جمیع الصلاة...الخ ، ص ۳۴۰،حدیث :۶۷۷