Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
377 - 1245
 لئے کہ اس میںاللہ  عَزَّ  وَجَلَّ پر اس بات کا حکم لگا نا ہے کہ اس نے ملعون کو (اپنی رحمت سے) دور کردیا ہے۔  یہ معاملہ تو غیب ہے جس پراللہ عَزَّ  وَجَلَّ  یاپھراس  کے بتائے   سے اس کا رسول مُطَّلَع ہوسکتا ہے۔
لعنت کا تقاضا کرنے والی صفات:
	لعنت کا تقاضا کرنے والی صفا ت تین ہیں:(۱)کُفر(۲)بِدْعَت (۳) فِسْق اور ہرصِفَت میں تین دَرَجےہیں:
٭…پہلادرجہ:عمومی وصف کے ساتھ لعنت کرناجیسے یہ کہنا: کافِروں، بِدْعتِیوں اور فاسِقوں پر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی لعنت۔
٭…دوسرادرجہ:ایسےو صف کے ساتھ لعنت کرنا جو عمومی وصف سے خاص ہو جیسے یہ کہنا: یہود،نصارٰی، مجوسیوں،قَدَرِیوں، خارجیوں اور رافضِیوں پراللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی لعنت یازانِیوں ،ظالِموں اور سُود کھانے والوں پر اللہ  عَزَّ  وَجَلَّ کی لعنت۔
عوام کوبد مذہب پر لعنت کرنامنع ہے :
	یہ دونوں طریقے جائز ہیں البتہ مختلف قسم کے بد مذہبوں پر لعنت کرنے میں خطرہ ہے کیو نکہ بدعت کی مَعْرِفَت پوشیدہ اَمْرہے اور اس سلسلے میں کوئی لفظ شریعت میں وارد نہیں ہے،لہٰذا عوام کو اس سے منع کرنا چاہئےکیو نکہ اگر وہ بدمذہبوں پرلعنت  بھیجیں گے تو وہ بھی جواب میں ان پر لعنت کریں گےاوریہ بات لوگوں کے مابین جھگڑے اور فساد کا با عث بنے گی۔
٭…تیسرا درجہ:معین  ومخصوص شخص پر  لعنت کرنااوراس میں خطرہ ہے۔مثلاً زید کافریافاسق یا بدعتی ہے  اور تم کہو: زید پر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی لعنت۔
مخصوص شخص پر لعنت کرنے کے متعلق تفصیل:
	تفصیل اس بارے میں یہ ہے کہ جس شخص کے لئے شریعت میں لعنت ثابت ہو اس پر لعنت بھیجنا جائز ہے جیسےکوئی کہے کہ فرعون پراللہ عَزَّ  وَجَلَّکی لعنت،ابوجہل پراللہ عَزَّ  وَجَلَّکی لعنت کیونکہ ان کا کفر پرمرنا شرعاً ثابت اور معلوم ہے۔جہاں تک ہمارے زمانے میں کسی مُعَیَّن شخص پر لعنت کرنے کا تعلُّق ہے مثلاً: زید یہودی ہے اور تم کہو: زید پر اللہ عَزَّ  َجَلَّکی لعنت تو اس میں خطرہ ہے کیو نکہ ہو سکتا ہےوہ مسلمان ہو جائے اور